نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اسلامی تعاون تنظیم کے نو منتخب سیکریٹری جنرل اسماعیل ولد شیخ احمد سے ٹیلی فون پر گفتگو کرکے انہیں اتفاق رائے سے انتخاب پر مبارکباد دی ہے۔ اسحاق ڈار نے او آئی سی کو پاکستان کی خارجہ پالیسی اور مسلم دنیا کے مشترکہ مسائل کے لیے اہم کثیرالجہتی فورم قرار دیا۔
سرکاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے فلسطین، علاقائی امن اور مسلم ممالک کو درپیش سیاسی و معاشی چیلنجز پر او آئی سی کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان فلسطینی ریاست کے قیام اور غزہ میں انسانی امداد کی مسلسل حمایت کرتا رہا ہے اور او آئی سی میں اس مسئلے پر فعال سفارت کاری کو اہم سمجھتا ہے۔
نو منتخب سیکریٹری جنرل نے ایران سے متعلق حالیہ علاقائی تنازع کے خاتمے کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ یہ او آئی سی قیادت کا سفارتی مؤقف ہے؛ جنگ کے خاتمے میں مختلف ممالک اور بین الاقوامی فریقوں کے کردار کا وسیع جائزہ الگ سفارتی ریکارڈ کا موضوع ہے۔
او آئی سی 57 مسلم اکثریتی ممالک کی تنظیم ہے اور فلسطین، اسلاموفوبیا، انسانی امداد، تجارت اور سیاسی تعاون سمیت متعدد شعبوں میں مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ تاہم رکن ممالک کے مختلف قومی مفادات کے باعث مشترکہ فیصلوں کا عملی نفاذ ہمیشہ یکساں نہیں ہوتا۔
اسحاق ڈار اور سیکریٹری جنرل نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ پاکستان کے لیے نئی او آئی سی قیادت کے ساتھ ابتدائی رابطہ آنے والے وزارتی اور سربراہی اجلاسوں میں اپنے سفارتی اہداف کو آگے بڑھانے کا موقع ہے۔ اصل پیش رفت فلسطین، انسانی امداد اور مسلم دنیا کے تنازعات پر تنظیم کی مشترکہ عملی کارروائی سے ناپی جائے گی۔




