اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی انسداد دہشت گردی عدالت نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور کرلی ہے جس میں ان پر نیشنل پریس کلب کے باہر راستہ روکنے اور پولیس کے ساتھ مبینہ جھگڑے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو پانچ پانچ ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ پولیس نے مقدمے کا ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیا۔ دفاعی وکیل ریاست علی آزاد نے عدالت کو بتایا کہ ریکارڈ اسی روز موصول ہوا ہے۔ جج نے ریکارڈ کی تاخیر سے فراہمی سے متعلق پولیس کو جاری شوکاز نوٹس کے معاملے کا بھی جائزہ لینے کی بات کی۔

عدالت نے درخواست گزاروں سے مختصر طور پر پوچھا کہ آیا وہ فیصلہ سنائے جانے سے قبل کچھ کہنا چاہتے ہیں، جس کے بعد دونوں کی ضمانت منظور کردی گئی۔ یہ ضمانت اس مخصوص مقدمے سے متعلق ہے اور اسے جوڑے کے خلاف دیگر مقدمات، سزاؤں یا اپیلوں کے حتمی نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ مختلف مقدمات کے باعث رواں سال عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انہیں جنوری میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر احتجاج اور مبینہ بدسلوکی سے متعلق ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایک سیشن عدالت نے سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق پیکا کے تحت مقدمے میں انہیں سزائیں سنائی تھیں، جنہیں بعد میں سپریم کورٹ نے ستمبر میں معطل کرتے ہوئے اپیلوں کے حتمی فیصلے تک رہائی کا حکم دیا تھا۔

تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے بعد انہیں ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کیا گیا، جو گزشتہ سال مارچ میں کوہسار پولیس اسٹیشن میں سٹی مجسٹریٹ کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ موجودہ ضمانتی حکم اسی قانونی سلسلے کے ایک مقدمے سے متعلق ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے سکیورٹی بریچ کیس میں بھی دونوں کو سزائیں سنائی تھیں، جن کے خلاف قانونی چارہ جوئی الگ معاملہ ہے۔

ضمانت کا مطلب کسی الزام سے بریت یا مقدمے کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ عدالت نے اس مرحلے پر صرف یہ طے کیا ہے کہ متعلقہ شرائط اور ضمانتی مچلکوں کے ساتھ ملزمان کو اس مقدمے میں ضمانت دی جاسکتی ہے۔ الزامات کی قانونی حیثیت اور مقدمے کا حتمی نتیجہ آئندہ عدالتی کارروائی اور شواہد کی جانچ پر منحصر رہے گا۔