اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے کشمیر چوک، جسے ڈھوکری چوک بھی کہا جاتا ہے، پر تقریباً 1.4 ارب روپے مالیت کا انڈر پاس بنانے کے منصوبے کی تکنیکی بولیاں کھول دی ہیں۔ ڈان کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ منصوبہ مری روڈ پر اسلام آباد کلب کے قریب تعمیر ہوگا۔

منصوبے کے ابتدائی ٹریفک خاکے کے مطابق سرینا کی سمت سے راولپنڈی جانے والی گاڑیاں انڈر پاس استعمال کریں گی، جبکہ انڈر پاس کی اوپری سطح مری کی سمت جانے والے ٹریفک کے لیے ہوگی۔ اس تقسیم کا مقصد چوک پر مختلف سمتوں کی ٹریفک کو الگ کرنا ہے، تاہم تعمیر شروع ہونے اور تکمیل کی حتمی تاریخ ابھی رپورٹ میں نہیں دی گئی۔

تکنیکی مرحلے میں حبیب کنسٹرکشن سروسز اور ایم ایس کامران خان، کنڈی گروپ، کی بولیاں زیرِ غور آئیں۔ رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے نے تکنیکی جانچ میں کنڈی گروپ کو غیر جواب دہ قرار دیا، جس کے بعد کمپنی نے ادارے کے سامنے شکایت دائر کر دی۔ سی ڈی اے حکام نے کہا کہ شکایت کا فیصلہ ہونے تک مالی بولیاں نہیں کھولی جا سکتیں۔

ایک سی ڈی اے عہدیدار کے مطابق شکایت کا جائزہ پانچ روز کے اندر لیا جائے گا اور معاملہ مجموعی طور پر 15 دن میں طے ہونے کی توقع ہے۔ اگر ادارے کی کمیٹی شکایت درست سمجھے تو دونوں کمپنیوں کی مالی بولیاں کھولی جا سکتی ہیں، ورنہ متاثرہ کمپنی کے پاس پی پی آر اے سے رجوع کرنے کا راستہ ہوگا۔ سی ڈی اے انجینئر نے اس کارروائی کو خریداری کے معمول کے قانونی عمل کا حصہ قرار دیا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سی ڈی اے فیصل ایونیو اور مارگلہ روڈ کے سنگم پر ایک اور انڈر پاس کے پی سی ون کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ اس کے برعکس وفاقی فنڈنگ سے شروع ہونے والا ٹینتھ ایونیو منصوبہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے رکا ہوا ہے اور اس کا تقریباً نصف کام باقی ہے۔ کشمیر چوک منصوبے کے لیے ابھی مالی بولی، ٹھیکا اور عملی آغاز مکمل نہیں ہوا، اس لیے اسے شروع شدہ تعمیر کے بجائے ٹینڈر کے تکنیکی مرحلے میں موجود منصوبہ سمجھا جائے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک