اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں کشمیر چوک انڈر پاس کا افتتاح کر دیا ہے، جسے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے 27 روز میں مکمل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈان کی 6 نومبر کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے افتتاحی تقریب میں منصوبے کی تیز رفتار تکمیل کو سراہا اور وزارت داخلہ، سی ڈی اے، کنٹریکٹر اور منصوبے سے وابستہ ٹیم کی کارکردگی کی تعریف کی۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے میں تقریباً 500 میٹر طویل انڈر پاس کے ساتھ چار کلومیٹر سڑک کا کام بھی شامل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دارالحکومت میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے اور آمدورفت بہتر بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق کشمیر چوک کا منصوبہ مختصر مدت میں مکمل کیا گیا، تاہم منصوبے کی طویل مدتی افادیت کا اندازہ ٹریفک کے بہاؤ اور شہری استعمال کے بعد زیادہ واضح ہوگا۔
کشمیر چوک اسلام آباد کے اہم ٹریفک مقامات میں شمار ہوتا ہے اور یہاں مختلف سمتوں سے آنے والی گاڑیوں کا دباؤ رہتا ہے۔ انڈر پاس کا بنیادی مقصد مرکزی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی بہتر کرنا اور چوک پر رکنے والی گاڑیوں کی تعداد کم کرنا ہے۔ سی ڈی اے نے منصوبے کے ساتھ ملحقہ سڑکوں پر بھی کام کیا ہے تاکہ انڈر پاس سے نکلنے اور داخل ہونے والی ٹریفک کو موجودہ روڈ نیٹ ورک کے ساتھ مربوط کیا جا سکے۔
افتتاح کے موقع پر وزیراعظم نے منصوبے کی 27 روزہ تکمیل کو غیر معمولی قرار دیا۔ یہ حکومتی بیان منصوبے کی تعمیراتی مدت سے متعلق ہے؛ منصوبے کے معیار، دیکھ بھال، مجموعی لاگت اور مستقبل میں ٹریفک پر پڑنے والے اثرات کا مکمل جائزہ متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور عملی استعمال کی بنیاد پر ہوگا۔ شہری انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں تیز رفتار تعمیر کے ساتھ حفاظتی معیار، نکاسی آب، پیدل چلنے والوں کی سہولت اور مسلسل مرمت بھی اہم عوامل ہوتے ہیں۔
اسلام آباد میں حالیہ برسوں کے دوران بڑھتی آبادی اور گاڑیوں کی تعداد کے باعث کئی مرکزی شاہراہوں اور چوراہوں پر ٹریفک مینجمنٹ ایک مستقل انتظامی مسئلہ بن چکا ہے۔ کشمیر چوک انڈر پاس اسی تناظر میں مکمل کیا گیا ہے۔ حکام کو اب یہ دیکھنا ہوگا کہ نئے ڈھانچے سے مصروف اوقات میں سفر کے دورانیے، ٹریفک جام اور ملحقہ سڑکوں پر دباؤ میں کس حد تک کمی آتی ہے۔
منصوبہ اب ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، اس لیے اگلا مرحلہ اس کے عملی نتائج، سڑک کی دیکھ بھال اور ٹریفک نظم کا ہے۔ افتتاح کے موقع پر حکومت نے اسے تیز رفتار ترقیاتی کام کی مثال کے طور پر پیش کیا، لیکن شہریوں کے لیے اس کی حقیقی قدر محفوظ اور مسلسل آمدورفت میں بہتری سے طے ہوگی۔

