وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی قیمتی زمین دسمبر میں ایک نئے شراکتی ماڈل کے تحت نیلام کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں کامیاب ڈویلپرز سے زمین کی پیشگی قیمت وصول کرنے کے بجائے مکمل ہونے والے منصوبے میں حکومتی حصہ لیا جائے گا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں سعودی پاکستان رئیل اسٹیٹ نمائش سے خطاب کرتے ہوئے سعودی سرمایہ کاروں کو بھی اس نیلامی میں شرکت کی دعوت دی۔

عرب نیوز پاکستان کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ ہوٹلوں، شاپنگ مالز اور رہائشی کمپلیکسز کے لیے اسلام آباد کے مہنگے پلاٹس پیش کیے جائیں گے اور بولی منصوبے کی قابل فروخت یونٹس، یعنی انوینٹری، کے 15 فیصد حصے سے شروع ہوگی۔ ان کے مطابق حکومت زمین کے بدلے نقد پیشگی رقم طلب نہیں کرے گی بلکہ تیار ہونے والی عمارتوں میں حصہ حاصل کرے گی۔ یہ طریقہ روایتی زمین فروخت کرنے کے ماڈل سے مختلف ہے اور اس کا مقصد سرمایہ کار کے ابتدائی سرمائے کا بوجھ کم کرتے ہوئے حکومت کے لیے منصوبے میں قدر کا حصہ برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔

وزیر داخلہ کے مطابق پلاٹس کا رقبہ ایک سے چھ ایکڑ کے درمیان ہوگا۔ منصوبوں کو منظوری کے بعد تین سال میں مکمل کرنا ہوگا اور عمارتوں کی کم از کم بلندی 600 فٹ مقرر کرنے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ منظوریوں کا عمل تین سے چار ہفتوں میں مکمل کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ سرمایہ کاروں کو متعدد سرکاری دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔

سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے مجوزہ نیلامی کی نگرانی پانچ رکنی کمیٹی کرے گی جس میں قومی احتساب بیورو، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل، وفاقی تحقیقاتی ادارہ اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے نمائندے شامل ہوں گے، جبکہ سربراہی ایک جج کرے گا۔ محسن نقوی نے ماضی میں بعض سرمایہ کاروں کو پیش آنے والے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں کو اسی عمل کا حصہ بنانے سے بعد کے انتظامی خدشات کم کیے جا سکیں گے۔

اسی خطاب میں انہوں نے اسلام آباد میں ایک ہزار ایکڑ پر مین ہٹن طرز کے نئے ضلع اور 450 ایکڑ کے سفاری پارک کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ یہ اعلانات ابھی منصوبہ بندی اور نیلامی کے مرحلے سے متعلق ہیں؛ ان منصوبوں کی تکمیل یا سرمایہ کاری کی حتمی مالیت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ لاہور کی تین روزہ سعودی پاکستان رئیل اسٹیٹ نمائش میں دونوں ممالک کے ڈویلپرز اور سرمایہ کار شریک ہیں اور پاکستان سعودی عرب سے طویل مدتی نجی سرمایہ کاری بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔