اسلام آباد میں ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی متنازع عمارت کو فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزرا کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی گئی اور اسے منظور کرلیا گیا، جس کے بعد کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی عمارت کے انتظامی امور سنبھالے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت آئندہ چند ماہ میں کسی بڑی ہوٹل چین کے ساتھ انتظام کے ذریعے عمارت کو ہوٹل کے طور پر فعال کرنے کی کوشش کرے گی۔
منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جے آئی ٹی نے منصوبے کی بولی، لیز اور بعد میں رہائشی اپارٹمنٹس کی فروخت کے عمل میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق رپورٹ کی تیاری میں نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، ایس ای سی پی، آئی بی اور آئی ایس آئی سمیت متعلقہ اداروں کی معلومات شامل تھیں۔ وزیر نے بعض سابق حکام اور منصوبے سے وابستہ افراد کے بارے میں جے آئی ٹی کے نتائج اور الزامات بھی بیان کیے۔ یہ نکات تحقیقاتی رپورٹ اور حکومتی مؤقف ہیں؛ رپورٹ میں نام آنے کو کسی شخص کی عدالتی سزا یا حتمی مجرمانہ ذمہ داری قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حکومت کے مطابق منصوبہ تقریباً دو دہائیاں پہلے بنیادی طور پر فائیو اسٹار ہوٹل کے لیے منظور ہوا تھا لیکن بعد میں اسے رہائشی اور تجارتی استعمال میں تبدیل کیا گیا۔ سی ڈی اے نے واجبات کی عدم ادائیگی پر لیز منسوخ کی تھی اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے رواں سال اپریل میں اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ بعد ازاں رہائشیوں کے انخلا کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف نے معاملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔
احسن اقبال نے کہا کہ رپورٹ میں منصوبے کو شفاف طریقے سے دوبارہ آگے بڑھانے، ضروری سکیورٹی اور فائر سیفٹی منظوریوں، سی ڈی اے کے نظام میں اصلاحات، ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور متعلقہ شعبوں میں افسران کی باقاعدہ روٹیشن کی سفارشات بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق نیب کو رپورٹ کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا کہا گیا ہے۔
متاثرہ خریداروں کے بارے میں حکومت نے کہا ہے کہ جائز واجبات اور اصل سرمایہ واپس کرنے کے لیے جے آئی ٹی کی سفارشات پر عمل کیا جائے گا اور ادائیگیوں میں کیبور سے متعلق ایڈجسٹمنٹ بھی کی جائے گی۔ محسن نقوی کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بعد ان سفارشات پر عمل حکومت کے لیے لازم ہے۔ تاہم ادائیگیوں کی مجموعی رقم اور مکمل ٹائم لائن فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔
