اسلام آباد: وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو عمارت کو اس کے اصل منصوبے کے مطابق فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ منصوبے سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ وفاقی کابینہ نے منظور کر لی ہے۔ منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس میں جے آئی ٹی کے نتائج بیان کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے منصوبے کے اجرا، بولی اور لیز کے عمل میں بے ضابطگیوں اور قواعد سے انحراف کی نشاندہی کی ہے۔

حکومتی بیان کے مطابق جے آئی ٹی میں نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، انٹیلی جنس بیورو اور آئی ایس آئی سمیت مختلف اداروں کی معلومات شامل تھیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ رپورٹ میں بولی کے عمل میں manipulation، بعض شرائط میں تبدیلی اور سی ڈی اے کے بعض عہدیداروں کے کردار سے متعلق findings دی گئی ہیں۔ یہ نکات جے آئی ٹی اور حکومتی وزرا کے بیان کردہ نتائج ہیں؛ کسی فرد کی فوجداری ذمہ داری یا جرم کا حتمی تعین متعلقہ قانونی اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔

احسن اقبال کے مطابق جے آئی ٹی نے منصوبے کو اس کے اصل مقصد، یعنی ہوٹل، کے طور پر دوبارہ آگے بڑھانے، شفاف نیلامی، ضروری سکیورٹی اور فائر سیفٹی کلیئرنس اور مستقبل کے منصوبوں کے لیے بہتر نگرانی کی سفارش کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رپورٹ کی روشنی میں ذمہ دار قرار دیے جانے والے افراد کے خلاف متعلقہ اداروں کو کارروائی آگے بڑھانے کا کہا گیا ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے عمارت کا کنٹرول واپس حاصل کر لیا ہے اور اسے آنے والے مہینوں میں ایک بڑے ہوٹل چین کے ساتھ فائیو اسٹار ہوٹل بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق اسلام آباد میں اعلیٰ معیار کے ہوٹلوں کی گنجائش بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق قابضین یا سرمایہ کاروں کے جائز مالی حقوق سے متعلق ادائیگیوں کو جے آئی ٹی سفارشات کے مطابق نمٹانے کی کوشش ہوگی۔

اس عمارت کی لیز ماضی میں سی ڈی اے نے ادائیگیوں میں ڈیفالٹ کے معاملے پر منسوخ کی تھی اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے رواں سال اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ بعد میں رہائشیوں کے انخلا کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے معاملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی قائم کی۔ نئی پیش رفت میں کابینہ کی جانب سے رپورٹ کی منظوری اور عمارت کو ہوٹل کے طور پر دوبارہ استعمال کرنے کا حکومتی فیصلہ اہم مرحلہ ہے، تاہم نیلامی، ہوٹل آپریٹر کے انتخاب اور قانونی کارروائیوں کی تفصیلات ابھی آئندہ مراحل میں طے ہونا باقی ہیں۔