کراچی: پولیس نے کراچی پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ کرنے والے پرائمری اسکول اساتذہ کو فوارہ چوک کے قریب روکنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا، جبکہ پولیس کے مطابق 38 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔ احتجاج آل سندھ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کی کال پر کیا گیا تھا اور اساتذہ سروس اسٹرکچر سمیت تبادلوں اور تعیناتیوں کے اختیارات ضلعی سطح پر منتقل کرنے کے مطالبات لے کر وزیراعلیٰ ہاؤس جانا چاہتے تھے۔
ڈان کے مطابق سینکڑوں اساتذہ کراچی پریس کلب کے باہر جمع ہوئے اور بعد میں ریڈ زون کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔ جنوبی زون کے ڈی آئی جی سید اسد رضا نے کہا کہ انتظامیہ نے احتجاج سے پہلے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی اور محکمہ تعلیم کے حکام کو بھی بات چیت میں شامل کیا گیا۔ ان کے مطابق مظاہرین کو واضح کیا گیا تھا کہ ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
پولیس افسر نے الزام عائد کیا کہ مظاہرین نے مذاکرات کا عمل چھوڑ کر رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی اور اہلکاروں پر پتھراؤ کیا، جس سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال بگڑنے پر ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی گئی۔ حراست میں لیے گئے افراد میں ایسوسی ایشن کے صدر غلام رسول مہر اور جنرل سیکریٹری اعجاز علی چانڈیو بھی شامل تھے۔ یہ پولیس کا موقف ہے اور اسے اسی نسبت سے بیان کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اساتذہ تنظیم کے نائب صدر رفیق نظامانی نے کہا کہ ان کے مطالبات کئی برس سے زیر التوا ہیں۔ ان کے مطابق 2021 کی تعلیمی پالیسی کے نتیجے میں اساتذہ کی ترقی کے مسائل پیدا ہوئے اور حکومت کی سابق یقین دہانیوں کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوا۔ انہوں نے پولیس کی کارروائی میں دو اساتذہ کے زخمی ہونے کا دعویٰ بھی کیا اور کہا کہ مطالبات کے حق میں کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ قائم کیا جائے گا۔
واقعے میں پولیس اور مظاہرین کے بیانات بعض نکات پر مختلف ہیں، خصوصاً اس سوال پر کہ تصادم کیسے شروع ہوا۔ تصدیق شدہ طور پر مارچ کو ریڈ زون جانے سے روکا گیا، پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا اور 38 افراد کو حراست میں لیا۔ اساتذہ کے سروس اسٹرکچر اور انتظامی اختیارات سے متعلق بنیادی مطالبات پر فوری سرکاری فیصلے کا اعلان رپورٹ کے وقت تک سامنے نہیں آیا تھا۔

