اسلام آباد: پاکستان اور برطانیہ نے دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف مشترکہ کوششیں جاری رکھنے اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق 4 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے سالانہ پاکستان-برطانیہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈائیلاگ میں ہوا۔ پاکستانی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر ٹیررازم ڈاکٹر فریحہ بگٹی نے کی جبکہ برطانوی وفد کی سربراہی فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کے ڈائریکٹر برائے نیشنل اینڈ اکنامک سکیورٹی تھامس بیری نے کی۔
سرکاری بیان کے مطابق دونوں وفود نے عالمی اور علاقائی سکیورٹی ماحول میں تبدیلیوں کا جائزہ لیا اور سرحد پار سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس سمیت مختلف تنظیموں سے لاحق خطرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بات چیت میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت افغانستان میں یا وہاں سے سرگرم گروہوں کے خطرے پر تشویش ظاہر کی گئی اور ایک مستحکم و محفوظ افغانستان کو خطے میں دیرپا امن اور خوشحالی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
برطانوی وفد نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں شہری جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا۔ دونوں جانب سے موجودہ دوطرفہ اور کثیرالجہتی انسدادِ دہشت گردی تعاون کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مکالمے میں بہترین عملی طریقوں کے تبادلے اور دہشت گردی کے بدلتے رجحانات سے نمٹنے کے لیے نئی شراکت داریوں پر غور کیا گیا۔
خصوصی طور پر غلط اور گمراہ کن معلومات کی مہمات، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ممکنہ غلط استعمال اور ابھرتی ٹیکنالوجیز سے پیدا ہونے والے سکیورٹی چیلنجز زیر بحث آئے۔ دونوں فریقوں نے علاقائی استحکام میں پاکستان کے کردار پر بھی گفتگو کی اور باقاعدہ رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
سرکاری اطلاع کے مطابق پاکستان اور برطانیہ نے انسدادِ دہشت گردی کے مشترکہ مقاصد کے لیے ادارہ جاتی روابط مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مکالمے کا اگلا دور آئندہ سال لندن میں باہمی طور پر طے شدہ تاریخوں پر منعقد ہوگا۔ اجلاس کے نتائج تعاون کے سیاسی اعلان سے آگے بڑھ کر معلومات، تجربات اور ادارہ جاتی رابطوں کے تسلسل پر زور دیتے ہیں، تاہم کسی مخصوص نئے آپریشن یا مشترکہ کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

