اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پٹرول پمپس پر ایندھن کی مقدار میں مبینہ کمی اور پیمائش کے نظام میں چھیڑ چھاڑ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چار پمپس کے خلاف قانونی عمل شروع کر دیا ہے۔ ڈان کی 8 نومبر کی رپورٹ کے مطابق ان مقامات سے مشتبہ الیکٹرانک آلات برآمد ہوئے، جس کے بعد متعلقہ پمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور ان کے این او سیز منسوخ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
انتظامیہ کے مطابق کارروائی کے دوران وفاقی دارالحکومت کے مجموعی طور پر 43 پٹرول پمپس کا معائنہ کیا گیا۔ جانچ میں 14 پمپس کی 42 نوزلز میں پیمائش سے متعلق چھیڑ چھاڑ کی تصدیق ہوئی۔ حکام نے ایسے پمپس کے مالکان کے خلاف بھی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا جو مقررہ مقدار سے کم ایندھن فراہم کرتے پائے گئے۔ دوسری جانب 29 پٹرول پمپس پر ایندھن کی پیمائش معیار کے مطابق قرار دی گئی۔
کم مقدار میں ایندھن دینا صارفین کے لیے براہ راست مالی نقصان کا باعث بنتا ہے، کیونکہ ادائیگی مکمل مقدار کی ہوتی ہے مگر گاڑی میں حقیقی طور پر کم پٹرول یا ڈیزل منتقل ہوتا ہے۔ اگر پیمائش کے آلات یا نوزلز میں دانستہ تبدیلی ثابت ہو تو معاملہ صرف تکنیکی خرابی تک محدود نہیں رہتا بلکہ صارفین کے حقوق، تجارتی ضوابط اور قانونی ذمہ داری سے بھی جڑ جاتا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر نے شہر بھر میں بلاامتیاز نفاذ جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ رپورٹ میں چار پمپس کے خلاف مقدمات اور این او سی منسوخی کے فیصلے کا ذکر ہے، تاہم ہر مقام کے خلاف حتمی قانونی نتیجہ متعلقہ تفتیش، شواہد اور مجاز فورم کی کارروائی کے بعد طے ہوگا۔ اس لیے ابتدائی انتظامی کارروائی کو کسی فرد یا کاروبار کے خلاف حتمی عدالتی جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ مہم وفاقی دارالحکومت میں ایندھن کی فروخت کے پیمائشی معیار پر نگرانی سخت کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ آئندہ کارروائیوں میں باقاعدہ اور اچانک معائنے، پیمائشی آلات کی تصدیق اور صارفین کی شکایات پر فوری جانچ اہم ہوگی۔ انتظامیہ کے جاری نفاذ سے یہ بھی واضح ہوگا کہ جن نوزلز میں گڑبڑ پائی گئی ان کی اصلاح اور دوبارہ تصدیق کس طریقہ کار کے تحت کی جاتی ہے۔
