اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ نے پولی تھین بیگز کے استعمال اور فروخت کے خلاف کارروائی تیز کرتے ہوئے شہر بھر میں متعدد مقامات پر کریک ڈاؤن کیا ہے۔ انتظامیہ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق کارروائیوں کے دوران 122 افراد کو گرفتار کیا گیا، سات دکانیں سیل کی گئیں اور مجموعی طور پر 293 کلوگرام پلاسٹک بیگز ضبط کیے گئے۔

ایکسپریس ٹریبیون نے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے حوالے سے بتایا کہ مہم کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں ممنوع یا قواعد کے خلاف استعمال ہونے والے پولی تھین بیگز کی دستیابی محدود کرنا اور متعلقہ ماحولیاتی ضوابط پر عملدرآمد بڑھانا ہے۔ کارروائی شہر کے مختلف علاقوں میں کی گئی اور دکانداروں و دیگر متعلقہ افراد کے خلاف انتظامی اقدامات کیے گئے۔

پلاسٹک کی ایک بار استعمال ہونے والی تھیلیاں شہری کچرے، نالوں کی بندش اور زمین و آبی ماحول میں دیرپا آلودگی کا سبب بنتی ہیں۔ اسلام آباد میں ان کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے ماضی میں بھی پابندیاں اور نفاذی مہمات چلائی جاتی رہی ہیں، تاہم مسلسل دستیابی اور استعمال کے باعث انتظامیہ کو بار بار کارروائی کرنا پڑتی ہے۔

تازہ مہم میں بتائی گئی گرفتاریاں اور دکانوں کی سیلنگ انتظامیہ کی جانب سے نفاذ سخت کرنے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ تاہم گرفتار افراد کے خلاف حتمی قانونی نتائج، جرمانوں یا عدالتی کارروائی کی تفصیلات دستیاب رپورٹ میں واضح نہیں کی گئیں، اس لیے گرفتاری کو سزا یا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔

293 کلوگرام پولی تھین بیگز کی ضبطی بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ممنوع مواد کی سپلائی اور فروخت اب بھی مارکیٹ میں موجود ہے۔ ماحولیاتی پالیسی کے مؤثر نفاذ کے لیے صرف چھاپوں کے ساتھ متبادل تھیلیوں کی دستیابی، کاروباری طبقے کی آگاہی، سپلائی چین کی نگرانی اور شہریوں کے رویوں میں تبدیلی بھی اہم عوامل ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کی حالیہ کارروائی وفاقی دارالحکومت میں پلاسٹک آلودگی کم کرنے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ مہم کی پائیدار کامیابی کا اندازہ آنے والے عرصے میں خلاف ورزیوں کی تعداد، مارکیٹ میں پولی تھین بیگز کی دستیابی اور قواعد پر مسلسل عملدرآمد سے ہوگا۔