واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ اپنی نئی عدالتی مدت کے آغاز پر کولوراڈو کے شہر اور کاؤنٹی بولڈر کے ایک اہم موسمیاتی مقدمے کی سماعت کرے گی، جس کے نتائج امریکا میں تیل و گیس کمپنیوں کے خلاف اسی نوعیت کے دیگر مقدمات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ بولڈر نے ExxonMobil اور Suncor Energy کے خلاف ریاستی قانون کے تحت دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔

مقامی حکومتوں کا الزام ہے کہ کمپنیوں نے اپنی سرگرمیوں اور موسمیاتی تبدیلی کے تعلق سے متعلق عوام کو گمراہ کیا اور اب انہیں بڑھتے ہوئے موسمی خطرات سے نمٹنے اور نقصانات کی لاگت میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ یہ الزامات ابھی عدالتی تنازع کا حصہ ہیں اور کمپنیوں نے ان کی مخالفت کی ہے۔ مقدمہ پہلی بار 2018 میں دائر کیا گیا تھا، یعنی 2021 کی تباہ کن مارشل فائر سے کئی سال پہلے۔

بولڈر کاؤنٹی میں 2021 کی مارشل فائر کولوراڈو کی مہنگی ترین جنگلاتی آگ میں شمار ہوتی ہے اور اس سے تقریباً دو ارب ڈالر کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔ مقامی رہائشیوں اور حکام کا کہنا ہے کہ شدید موسمی واقعات سے نمٹنے، تعمیر نو اور مستقبل کی تیاری کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

دوسری جانب تیل کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ عالمی موسمیاتی مسئلے کو ریاستی عدالتوں میں متعدد الگ الگ مقدمات کے ذریعے حل کرنا مناسب نہیں اور ایسے دعوے وفاقی اختیار، خصوصاً کلین ایئر ایکٹ کے دائرہ کار سے ٹکرا سکتے ہیں۔ امریکی وفاقی حکومت نے بھی مقدمے کے بعض قانونی پہلوؤں پر کمپنیوں کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔

سپریم کورٹ اس مرحلے پر ضروری نہیں کہ موسمیاتی ذمہ داری کے بنیادی سوال پر حتمی فیصلہ دے؛ عدالت دائرہ اختیار یا مقدمے کے قانونی راستے جیسے نسبتاً محدود سوال پر بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔ جسٹس سیموئل الیٹو نے مالی مفادات کے باعث خود کو سماعت سے الگ کیا ہے، اس لیے آٹھ جج مقدمہ سنیں گے۔ فیصلہ مستقبل میں درجنوں مقامی حکومتوں کی جانب سے توانائی کمپنیوں کے خلاف دائر یا زیر غور موسمیاتی مقدمات کے طریقہ کار پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔