سیئٹل: بحرالکاہل میں گرم پانی کی کیلون لہروں کا ایک سلسلہ امریکی مغربی ساحل کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے باعث اکتوبر سے ساحلی سمندر کی سطح معمول سے تقریباً چھ انچ سے ایک فٹ تک بلند ہونے کا امکان ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ اضافہ خود سونامی جیسا واقعہ نہیں، لیکن بلند مدوجزر، بڑے سمندری طوفان یا تیز لہروں کے ساتھ مل کر ساحلی سیلاب اور کٹاؤ کے اثرات بڑھا سکتا ہے۔
کیلون لہریں سمندر میں گرم پانی کے بڑے ابھار کی صورت میں ساحل کے ساتھ سفر کرتی ہیں۔ یہ ایل نینو کے دوران عام ہو سکتی ہیں، مگر اس سال کے شدید ایل نینو سے ان کے اثرات زیادہ نمایاں ہونے کی توقع ہے۔ پیش گوئی کے مطابق ابتدائی لہر کیلیفورنیا کے ساحل کے ساتھ شمال کی جانب تقریباً 150 میل روزانہ کی رفتار سے بڑھے گی اور بعد میں اوریگن اور واشنگٹن تک پہنچے گی۔
امریکی نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن سے وابستہ ماہر مائیکل جیکوکس نے وضاحت کی کہ کیلون لہر تنہا لازماً سیلاب نہیں لاتی، بلکہ سمندر کی بنیادی سطح بلند کر دیتی ہے۔ اگر پہلے ہی سطح چھ انچ زیادہ ہو تو بلند مدوجزر، طوفانی لہروں یا موسمی نظام کے دوران پانی مزید اندر تک پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ لہریں سمندر کے درجہ حرارت میں اضافہ کرتی ہیں اور ٹھنڈے، غذائی اجزا سے بھرپور پانی کو مزید گہرائی میں دھکیل سکتی ہیں، جس سے سمندری حیات اور ساحلی ماحولیاتی نظام بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ پیش گوئی ہے کہ اس نوعیت کی لہریں اکتوبر سے فروری تک وقفے وقفے سے ساحل تک پہنچتی رہیں گی۔
جنوبی کیلیفورنیا کے کئی ساحلی علاقے پہلے ہی کٹاؤ اور بلند سمندری سطح کے خطرات سے دوچار ہیں۔ مقامی ادارے بعض مقامات پر ساحلی ریت کی بحالی اور دیگر حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اصل نقصان اس بات پر منحصر ہوگا کہ کیلون لہروں کی آمد بلند مدوجزر اور شدید موسمی نظاموں کے ساتھ کس حد تک ایک وقت میں ہوتی ہے۔
