پاکستان نے 2026 کے انوائرنمنٹل پرفارمنس انڈیکس میں مجموعی طور پر 177 ممالک میں 157ویں پوزیشن حاصل کی ہے، تاہم فضائی معیار اور ماحولیاتی صحت کے اشاریوں میں ملک کی کارکردگی بدستور انتہائی کمزور ہے۔ ییل یونیورسٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا مجموعی ای پی آئی اسکور 29.03 ہے، جبکہ ماحولیاتی صحت میں ملک 175ویں اور فضائی معیار میں 176ویں نمبر پر ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی عالمی پوزیشن 2024 کے مقابلے میں بہتر دکھائی دیتی ہے، لیکن 2026 کے انڈیکس میں طریقہ کار اور اشاریوں میں تبدیلیوں کی وجہ سے دونوں سالوں کی درجہ بندی کا براہ راست موازنہ احتیاط سے کرنا ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مجموعی رینک میں بہتری کو یہ ثابت کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں فضائی آلودگی واقعی کم ہو گئی ہے۔
لاہور اور راولپنڈی کے حالیہ فضائی اعداد و شمار بھی تشویش برقرار رہنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2026 کے پہلے 23 دنوں میں لاہور کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس تقریباً 96 رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تقریباً 80 تھا۔ راولپنڈی میں بھی اسی مدت کے دوران اوسط اے کیو آئی تقریباً 116 ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال کے تقابلی عرصے کے مقابلے میں زیادہ تھا۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق آلودگی کو صرف سردیوں یا اسموگ کے موسم کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں، کیونکہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار اور صنعتی اخراج سال بھر فضائی معیار کو متاثر کرتے ہیں۔ طویل مدت میں بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، کم اخراج والی گاڑیوں، صاف توانائی، صنعتی نگرانی اور بہتر ایندھن کے معیار جیسے اقدامات ضروری ہیں۔ پنجاب میں جرمانوں، سیلنگ اور معائنوں کی کارروائیاں بڑھی ہیں، لیکن دستیاب ڈیٹا ابھی یہ ثابت نہیں کرتا کہ انہی اقدامات نے پاکستان کی عالمی درجہ بندی بہتر کی۔ مستقل اور یکساں طریقہ کار کے تحت طویل مدتی نگرانی ہی پالیسی کے حقیقی اثرات واضح کر سکتی ہے۔
