کراچی: سندھ حکومت نے ہارون آباد ٹریٹمنٹ پلانٹ-1 (TP-1) کا افتتاح کر دیا ہے، جسے کراچی میں پانی کی قلت کم کرنے اور صنعتی استعمال کے لیے سیوریج کے پانی کو قابلِ استعمال بنانے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈان کی 4 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کا افتتاح پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کیا، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اسے شہر کی واٹر سکیورٹی اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا۔
وزیراعلیٰ کے مطابق منصوبے کے ذریعے روزانہ 35 ملین گیلن ٹریٹڈ پانی صنعتوں کو فراہم کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ صنعتوں کو ری سائیکل شدہ پانی دینے سے تقریباً اتنی ہی مقدار میں تازہ پانی گھریلو صارفین کے لیے آزاد ہو سکے گا۔ کراچی میں آبادی، صنعتی سرگرمی اور محدود آبی وسائل کے باعث پانی کی طلب و رسد کا فرق طویل عرصے سے بنیادی شہری مسئلہ رہا ہے، اس لیے متبادل ذرائع کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ٹریٹڈ پانی کے معیار کی جانچ ہو چکی ہے اور اسے صنعتی استعمال کے لیے موزوں پایا گیا ہے۔ ان کے مطابق پلانٹ آنے والے دنوں میں مکمل پیمانے پر صنعتوں کو پانی فراہم کرنا شروع کرے گا۔ حکومت نے اس منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ صنعتی صارفین سے وصول ہونے والی ادائیگیوں کے ذریعے اس کے معمول کے آپریشنل اخراجات پورے کیے جا سکیں گے۔
منصوبے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ سیوریج کے پانی کو ضائع ہونے یا ماحول میں چھوڑنے کے بجائے ٹریٹ کر کے صنعتی عمل میں دوبارہ استعمال کیا جائے۔ اس سے ایک طرف میٹھے پانی کے محدود ذخائر پر دباؤ کم ہو سکتا ہے اور دوسری طرف شہری آلودگی اور غیر ٹریٹڈ فضلے کے اخراج میں کمی کے لیے ایک قابلِ عمل ماڈل بن سکتا ہے۔ تاہم اس کے ماحولیاتی اور شہری فوائد کا حقیقی اندازہ مسلسل پانی کے معیار، پلانٹ کی آپریشنل استعداد اور صنعتوں تک ترسیلی نظام کی کارکردگی سے ہو گا۔
تقریب میں صوبائی وزرا، کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب، صنعتی شعبے کے نمائندے، ترقیاتی شراکت دار، تکنیکی ماہرین اور متعلقہ سرکاری حکام شریک ہوئے۔ سندھ حکومت نے اس سہولت کو ملک کا پہلا بڑے پیمانے کا ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ اور ری یوز منصوبہ قرار دیا ہے۔
کراچی میں پائیدار واٹر مینجمنٹ کے لیے ری سائیکلنگ، لیکیج میں کمی، سیوریج ٹریٹمنٹ، نئی ترسیلی لائنوں اور گھریلو فراہمی میں بہتری کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ضروری ہے۔ TP-1 کا 35 MGD ہدف اس سمت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، مگر منصوبے کی طویل مدتی کامیابی مستقل آپریشن، مالی پائیداری اور پانی کے معیار کی شفاف نگرانی سے وابستہ رہے گی۔
