اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت والا دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو جماعتوں کا اتحاد سب سے بڑا بلاک بن کر سامنے آیا ہے، تاہم وہ حکومت بنانے کے لیے درکار واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے حامی اتحاد نے 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں حاصل کیں، جو سادہ اکثریت کے لیے ضروری 61 نشستوں سے آٹھ کم ہیں۔
مخالف جماعتوں کے مرکزی بلاک نے 48 نشستیں حاصل کیں، جبکہ باقی نشستیں ان جماعتوں کے پاس گئیں جو فوری طور پر کسی ایک بڑے کیمپ کا حصہ نہیں سمجھی جاتیں۔ اس تقسیم کے باعث انتخابی نتیجہ کسی ایک اتحاد کو خودکار طور پر حکومت بنانے کا اختیار نہیں دیتا اور آئندہ مرحلے میں اتحادی مذاکرات فیصلہ کن ہوں گے۔
نیتن یاہو کی لیکود پارٹی اور اس کی اتحادی مذہبی و قوم پرست جماعتوں نے انتخابی مہم میں سلامتی، جنگ اور داخلی سیاسی استحکام کو نمایاں موضوعات بنایا تھا۔ انتخاب ایسے وقت ہوا جب اسرائیل خطے میں طویل عسکری کشیدگی، ایران سے تصادم اور فلسطینی علاقوں سے متعلق شدید بین الاقوامی تنقید کا سامنا کر رہا ہے۔ اس ماحول نے خارجہ اور سلامتی پالیسی کو ووٹروں کے فیصلوں میں اہم عنصر بنا دیا۔
حتمی نتائج میں سب سے بڑا بلاک ہونے کے باوجود نیتن یاہو کے لیے حکومت سازی یقینی نہیں۔ اسرائیلی پارلیمانی نظام میں صدر مختلف جماعتوں سے مشاورت کے بعد اس رکن کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے بارے میں انہیں سب سے زیادہ امکان نظر آئے کہ وہ کنیسٹ میں اکثریتی حمایت حاصل کر سکتا ہے۔ اس لیے چھوٹی جماعتوں کی حمایت یا کسی نئے سیاسی انتظام کی تشکیل اگلی حکومت کے لیے اہم ہوگی۔
انتخابات کے بعد سیاسی مذاکرات میں وزارتوں کی تقسیم، مذہبی و ریاستی امور، عدالتی پالیسی اور سلامتی کے معاملات پر اختلافات سامنے آ سکتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں بھی متبادل اکثریت بنانے کی کوشش کر سکتی ہیں، اگرچہ ان کے درمیان نظریاتی فرق اس عمل کو پیچیدہ بناتے ہیں۔
موجودہ نتیجہ یہ ثابت نہیں کرتا کہ نیتن یاہو لازماً اگلی حکومت تشکیل دیں گے؛ یہ صرف انہیں سب سے بڑے پارلیمانی بلاک کی قیادت دیتا ہے۔ آئندہ دنوں میں جماعتوں کی سفارشات، صدر کی مشاورت اور اتحادی مذاکرات سے طے ہوگا کہ اسرائیل میں نئی حکومت کس اتحاد کی قیادت میں بنتی ہے اور آیا ملک ایک مستحکم اکثریتی حکومت حاصل کر پاتا ہے یا سیاسی تعطل برقرار رہتا ہے۔

