اسپین کے وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوینٹے نے ملک میں رواں سال دوسرے بڑے جان لیوا ریل حادثے کے بعد استعفے کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی فوری ذمہ داری حادثے کی وجوہات معلوم کرنا اور عوام کو واضح جواب دینا ہے۔ وسطی اسپین کے قصبے اردو کے قریب بدھ کو ہونے والے تصادم میں کم از کم 69 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

روئٹرز کے مطابق حادثے کے بعد 64 افراد لاپتا افراد کی فہرست میں درج تھے، جبکہ حکام درجنوں لاشوں کی شناخت کے پیچیدہ عمل میں مصروف رہے۔ جمعے تک 49 پوسٹ مارٹم کیے جا چکے تھے اور پانچ افراد کی باضابطہ شناخت ہوئی تھی۔ جائے حادثہ پر بھاری کرینوں کی مدد سے تباہ شدہ بوگیوں کو ہٹایا گیا اور امدادی ٹیموں نے ملبے کی تلاشی جاری رکھی۔

ابتدائی معلومات کے مطابق حادثے سے پہلے سگنلنگ نظام میں خرابی کے باعث متعدد ٹرینیں خودکار طور پر رک گئی تھیں۔ اس کے بعد میڈرڈ کے مرکزی کنٹرول روم نے آپریشن سنبھالا اور سرکاری کمپنی رینفے کی ایک ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت دی، حالانکہ آگے ایک دوسری کمپنی کی ٹرین کھڑی تھی۔ وزیر ٹرانسپورٹ کے مطابق دستیاب مواصلاتی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرین کو معمول کی رفتار سے چلنے کی اجازت دی گئی، جبکہ ایسے حالات میں پروٹوکول کم رفتار کا تقاضا کرتا ہے۔

ریل کارکنوں کی یونینوں نے صرف ممکنہ انسانی غلطی پر توجہ مرکوز کرنے پر اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ناکام ہونے والے حفاظتی نظام اور کنٹرول سینٹر کے کام کے حالات کی بھی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔ پوینٹے نے کہا کہ وہ خود ’انسانی غلطی‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کر رہے اور حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے بعد ہونا چاہیے۔

حادثے میں زیر بحث LZB ٹرین کنٹرول نظام کو جدید یورپی ریل ٹریفک مینجمنٹ سسٹم سے تبدیل کرنے کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔ وزیر کے مطابق نئی تنصیب 2027 کے اوائل میں فعال ہونے کی توقع ہے۔ یہ تاخیر اس لیے بھی سیاسی توجہ حاصل کر رہی ہے کیونکہ جنوری میں اسی میڈرڈ-سیویل لائن پر ایک اور بڑے حادثے میں 46 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تازہ حادثہ اسپین کے وسیع ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک کی حفاظت، دیکھ بھال اور جدید سگنلنگ نظام کے نفاذ پر قومی بحث کا سبب بن گیا ہے۔ حادثے کی مکمل تکنیکی اور عدالتی تحقیقات ابھی جاری ہیں، اس لیے کنٹرول روم، سگنلنگ خرابی یا کسی فرد کو حتمی طور پر ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔