چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پانچویں پلینم میں ریکارڈ تعداد میں سینئر عہدیداروں کے اخراج کی باضابطہ توثیق کی گئی ہے، جبکہ پارٹی نے اپنی 21ویں قومی کانگریس 2027 کے دوسرے نصف میں بیجنگ میں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت ہوا جب صدر شی جن پنگ کی انسداد بدعنوانی مہم اور سیاسی نظم و ضبط کی کارروائیوں کے باعث اعلیٰ قیادت کی صفوں میں نمایاں تبدیلیاں آ چکی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق 2022 میں تشکیل پانے والی موجودہ مرکزی کمیٹی کے مکمل اور متبادل ارکان میں سے 279 افراد نے اجلاس میں شرکت کی، جبکہ اصل فہرست میں 376 ارکان شامل تھے۔ اس حساب سے تقریباً 25.8 فیصد اصل ارکان اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے متعدد افراد مختلف تحقیقات، برطرفیوں یا پارٹی کی تادیبی کارروائیوں کے نتیجے میں قیادت سے باہر ہوئے ہیں۔
پانچواں پلینم پارٹی کے سب سے بڑے اعلیٰ فیصلہ ساز ادارے، مرکزی کمیٹی، کا بند کمرہ اجلاس تھا۔ اجلاس نے داخلی نظم و ضبط سخت کرنے اور پارٹی کی مرکزی قیادت کے گرد اتحاد پر زور دیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے جاری کردہ خلاصے میں پارٹی نے اپنی تنظیمی مضبوطی اور سیاسی نظم کو نمایاں کیا، جبکہ بیرونی تجزیہ کاروں نے غیر حاضریوں کی بلند شرح کو حالیہ برسوں کی وسیع تطہیری اور انسداد بدعنوانی کارروائیوں کی علامت قرار دیا۔
21ویں پارٹی کانگریس کے لیے 2027 کے دوسرے نصف کا وقت مقرر ہونا اس لیے اہم ہے کہ چین میں ہر پانچ سال بعد ہونے والی یہ کانگریس اعلیٰ پارٹی قیادت کی تشکیل اور آئندہ سیاسی سمت کے تعین کا بنیادی فورم ہے۔ موجودہ سیاسی حالات میں توقع کی جا رہی ہے کہ شی جن پنگ اپنی قیادت کو مزید مدت تک جاری رکھنے کی کوشش کریں گے، تاہم آئندہ عہدوں اور تقرریوں کے بارے میں حتمی فیصلے پارٹی کے رسمی عمل کے ذریعے سامنے آئیں گے۔
چینی حکومت انسداد بدعنوانی مہم کو پارٹی اور ریاستی اداروں میں احتساب اور نظم مضبوط کرنے کا ذریعہ قرار دیتی ہے۔ ناقدین اور بعض بیرونی مبصرین اسے سیاسی طاقت کے ارتکاز سے بھی جوڑتے ہیں۔ موجودہ پلینم کے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ 2022 میں منتخب ہونے والی قیادت کا ایک بڑا حصہ اب فعال مرکزی کمیٹی میں موجود نہیں، جس سے 2027 کی کانگریس سے پہلے جانشینی، تقرریوں اور اعلیٰ سطح کی سیاسی صف بندی پر توجہ مزید بڑھے گی۔

