امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جی 20 ممالک پر زور دیا ہے کہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں پر گہرے سیاسی اختلافات کے باوجود عالمی معیشت اور مشترکہ چیلنجز سے متعلق تعاون جاری رکھا جائے۔ یہ اپیل امریکی شہر اٹلانٹا میں ہونے والے جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر سامنے آئی، جہاں جنگوں اور بڑی طاقتوں کے باہمی تناؤ نے سفارتی ایجنڈے پر نمایاں اثر ڈالا۔
رائٹرز کے مطابق اجلاس میں شریک ممالک یوکرین کی جنگ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر یکساں مؤقف نہیں رکھتے۔ مغربی ممالک روس کے خلاف سخت پالیسی اور یوکرین کی حمایت پر زور دیتے رہے ہیں، جبکہ جی 20 کے بعض دیگر ارکان تنازع کے حل کے لیے مختلف سفارتی راستوں اور قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے بھی توانائی، جہاز رانی اور عالمی تجارت کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
روبیو نے اجلاس میں اس نکتے پر زور دیا کہ جی 20 بنیادی طور پر دنیا کی بڑی معیشتوں کا فورم ہے اور سیاسی تنازعات کے باوجود ایسے شعبوں میں پیش رفت ممکن ہونی چاہیے جہاں مشترکہ مفاد موجود ہو۔ عالمی قرض، تجارت، توانائی کی قیمتیں، سپلائی چین اور ترقی پذیر ملکوں کی مالی ضروریات ایسے معاملات ہیں جن پر رکن ممالک کے فیصلوں کے وسیع بین الاقوامی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اٹلانٹا اجلاس ایسے وقت منعقد ہوا ہے جب عالمی سفارت کاری بیک وقت کئی بحرانوں سے دوچار ہے۔ یوکرین کی جنگ کے ساتھ ایران اور مشرق وسطیٰ سے متعلق کشیدگی نے تیل اور گیس کی قیمتوں اور بحری تجارت پر دباؤ بڑھایا ہے۔ ان حالات میں جی 20 کے اندر مشترکہ اعلامیے اور متفقہ زبان طے کرنا بھی زیادہ مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ رکن ممالک کی سلامتی اور خارجہ پالیسی ترجیحات مختلف ہیں۔
جی 20 میں امریکا، چین، روس، یورپی یونین اور بڑی ابھرتی ہوئی معیشتیں شامل ہیں، اس لیے یہ فورم عالمی اقتصادی نظم میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم گزشتہ برسوں میں جغرافیائی سیاسی تنازعات نے اقتصادی تعاون کے ایجنڈے کو بار بار متاثر کیا ہے۔ روبیو کی اپیل اسی تناظر میں سیاسی اختلافات اور عملی اقتصادی تعاون کے درمیان فرق برقرار رکھنے کی کوشش کی عکاسی کرتی ہے۔
اجلاس سے فوری طور پر جنگوں پر کسی مشترکہ حل کی توقع نہیں کی جا رہی، لیکن رکن ممالک کے درمیان براہ راست رابطہ بحرانوں کے دوران غلط فہمیوں کو کم کرنے اور اقتصادی مسائل پر محدود اتفاق رائے پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اٹلانٹا مذاکرات کا اصل نتیجہ اس بات سے جانچا جائے گا کہ آیا ممالک اختلافات کے باوجود مشترکہ اقتصادی اور سفارتی نکات پر قابلِ عمل اتفاق کر پاتے ہیں۔

