عمان کی شاہی بحریہ نے مسندم کے ساحل کے قریب ایک پاناما پرچم بردار تجارتی جہاز سے عملے کے 25 افراد کو نکال لیا ہے۔ عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر کے مطابق جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس پر آگ لگ گئی تھی، جس کے بعد بحریہ نے سکیورٹی مرکز کے ساتھ رابطے میں انخلا کی کارروائی کی۔
روئٹرز کے مطابق عمانی حکام نے بتایا کہ عملے کے تمام 25 افراد کو ضروری طبی امداد فراہم کی گئی۔ ابتدائی سرکاری بیان میں کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ عملے کے کسی رکن کو کس نوعیت کی چوٹ آئی۔ واقعے کی نوعیت، حملہ آور کی شناخت اور جہاز کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
مختلف رپورٹوں میں جہاز کا نام RITI یا RIT1 بتایا گیا ہے، جبکہ اس کے پاناما کے پرچم تلے چلنے کی تصدیق کی گئی ہے۔ میری ٹائم سکیورٹی سینٹر نے کہا کہ جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں آگ لگی۔ دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ حملے میں کون سا ہتھیار یا طریقہ استعمال ہوا یا واقعے کے پیچھے کون سا فریق تھا۔
مسندم کا ساحلی علاقہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے، جو عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ خطے میں حالیہ کشیدگی اور تجارتی جہازوں سے متعلق سکیورٹی واقعات کے باعث شپنگ کمپنیوں اور علاقائی بحری افواج کی نگرانی میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم تازہ واقعے کو کسی مخصوص ریاست یا گروہ سے جوڑنے کے لیے عمانی حکام نے ثبوت یا الزام جاری نہیں کیا۔
ٹائمز آف عمان نے بھی شاہی بحریہ اور میری ٹائم سکیورٹی سینٹر کے مشترکہ آپریشن کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ عملے کو جہاز سے نکال کر ضروری طبی دیکھ بھال دی گئی۔ مختلف ذرائع میں ساحل سے فاصلے کی تفصیل مختلف رپورٹ ہوئی ہے، اس لیے اس خبر میں بنیادی طور پر عمانی سکیورٹی مرکز کی تصدیق شدہ معلومات پر انحصار کیا گیا ہے۔
واقعہ عالمی تجارت کے لیے حساس سمندری راستے میں پیش آیا ہے، اس لیے جہاز کی حالت، آگ پر قابو پانے اور حملے کی تحقیقات سے متعلق مزید سرکاری معلومات اہم ہوں گی۔ فی الحال سب سے واضح تصدیق یہی ہے کہ عملے کے 25 افراد کا انخلا مکمل کیا گیا اور انہیں طبی مدد فراہم کی گئی۔

