مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں اسرائیلی فوج کے بڑے آپریشن کے بعد تقریباً دو ہزار فلسطینیوں کے بے گھر ہونے کی اطلاع ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ منتخب فوجی یونٹس علاقے میں کارروائی کر رہے ہیں اور بے گھر کیے گئے افراد کو آپریشن مکمل ہونے تک اپنے محلوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس سے قبل الخلیل کے بعض علاقوں میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد ایسے افراد اور ہتھیاروں کی تلاش ہے جنہیں ایک حالیہ حملے سے جوڑا جا رہا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی مقامی حکام نے کارروائی کو اجتماعی سزا قرار دیتے ہوئے اس کے دائرہ کار اور شہری آبادی پر اثرات پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔
الخلیل کے گورنر خالد دودین کے مطابق ابتدائی طور پر حملہ آوروں سے منسوب علاقے میں کارروائی شروع ہوئی، لیکن اس کے مزید علاقوں تک پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔ الخلیل بلدیہ کے سربراہ یوسف زہیر الجعبری نے کہا کہ پہلے سے بے گھر ہونے والے افراد کے علاوہ تقریباً 1,300 مزید لوگوں کے گھر متاثر ہونے یا ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ انسانی حقوق کے ایک گروپ نے 70 سے زیادہ گرفتاریوں کی اطلاع بھی دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق فوجی کارروائی کے دوران گھروں، سڑکوں اور بعض صنعتی یا تجارتی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا یا منہدم کیا گیا۔ فلسطینی اتھارٹی نے عالمی رہنماؤں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے بیانات میں کارروائی کے جواز اور اثرات کے بارے میں واضح اختلاف موجود ہے، اس لیے متنازع دعووں کو متعلقہ فریقوں سے منسوب کرنا ضروری ہے۔
مغربی کنارے میں آبادکاروں، فلسطینی آبادی اور اسرائیلی فوج کے درمیان کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے۔ تازہ کارروائی کے انسانی اثرات، حراستوں کی قانونی حیثیت اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تصویر آزادانہ رسائی اور مزید دستاویزی شواہد کے بعد زیادہ واضح ہوگی۔
