اسلام آباد: وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان 8 سے 11 ستمبر 2026 تک ہانگ کانگ کا سرکاری دورہ کریں گے، جہاں وہ بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اس دورے کا مرکزی مقصد پاکستان کے تجارتی اور سرمایہ کاری روابط کو اجاگر کرنا اور مختلف بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔

دورے کے دوران وفاقی وزیر سمٹ سے خصوصی خطاب کریں گے اور مختلف اہم سیشنز میں شرکت کریں گے۔ پروگرام میں ہانگ کانگ کے سینئر رہنماؤں، حکام اور دوسرے ممالک کے نمائندوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری کے مواقع، کاروباری روابط اور پاکستان کی برآمدی صلاحیت سے متعلق موضوعات زیر بحث آنے کی توقع ہے۔

جام کمال خان ہانگ کانگ میں بڑی کاروباری تنظیموں اور سرمایہ کاروں کے نمائندوں سے بھی رابطہ کریں گے۔ حکومت کے مطابق ان ملاقاتوں کا مقصد پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات پیش کرنا، نجی شعبے کے درمیان روابط بڑھانا اور ایسے شعبوں کی نشاندہی کرنا ہے جہاں مشترکہ تجارتی منصوبے یا سرمایہ کاری آگے بڑھ سکتی ہے۔ وفاقی وزیر پاکستانی کمیونٹی سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ بیرون ملک پاکستانی کاروباری حلقوں کو تجارتی سفارت کاری اور سرمایہ کاری کے فروغ میں شامل کیا جا سکے۔

بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ ایشیا اور عالمی سطح کے کاروباری و پالیسی حلقوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتی ہے، اس لیے پاکستان کے لیے یہ موقع خطے میں اپنی تجارتی پوزیشن، رابطہ کاری اور سرمایہ کاری کے امکانات پیش کرنے کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان پہلے ہی چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا اہم شریک ہے، تاہم ہانگ کانگ میں ہونے والی یہ سرگرمی وسیع تر تجارتی نیٹ ورکس، خدمات، مالیاتی شعبے اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں تک رسائی کے تناظر میں الگ اہمیت رکھتی ہے۔

وزارت تجارت کی حالیہ پالیسی ترجیحات میں برآمدات بڑھانا، نئی منڈیوں تک رسائی، کاروباری ماحول بہتر بنانا اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے قابلِ عمل مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔ ہانگ کانگ کے دورے میں انہی اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے دونوں سطحوں پر رابطے کیے جائیں گے۔

اس دورے کے عملی نتائج کا انحصار ان ملاقاتوں سے سامنے آنے والے مخصوص تجارتی وعدوں، سرمایہ کاری دلچسپی اور ممکنہ فالو اپ اقدامات پر ہوگا۔ فی الحال سرکاری پروگرام کے مطابق وزیر تجارت سمٹ میں پاکستان کا مؤقف پیش کرنے کے ساتھ کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی حکام کے ساتھ براہ راست رابطے کریں گے تاکہ پاکستان کے اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکے۔