استنبول: وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اسلامی تعاون تنظیم کے اقتصادی و تجارتی تعاون سے متعلق مستقل کمیٹی، کامسیک، کے 42ویں اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے استنبول پہنچ گئے ہیں۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ان کے دورے میں کامسیک کے وزارتی اجلاسوں میں شرکت کے ساتھ ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے متعلقہ وزرا کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق ان ملاقاتوں میں تجارتی تعلقات مضبوط بنانے، پاکستانی مصنوعات کے لیے مارکیٹ رسائی بڑھانے اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر گفتگو کی جائے گی۔ کامسیک کا موجودہ اجلاس او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، باہمی تجارت، نجی شعبے کی شمولیت اور برآمدات کے لیے مؤثر تجارتی مالیاتی نظام کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔

جام کمال خان کی شرکت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان برآمدات میں اضافہ، منڈیوں کی تنوع کاری اور علاقائی و اسلامی ممالک کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کو اپنی معاشی پالیسی کے اہم اہداف میں شمار کر رہا ہے۔ ترکیہ، سعودی عرب اور مصر تینوں پاکستان کے لیے سیاسی اور اقتصادی اہمیت رکھتے ہیں، تاہم کسی بھی دوطرفہ ملاقات سے فوری تجارتی معاہدہ یا مارکیٹ رسائی کی ضمانت اخذ نہیں کی جا سکتی۔ سرکاری اعلامیے میں ان ملاقاتوں کو بات چیت اور تعاون کے امکانات تلاش کرنے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

کامسیک او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کے لیے ایک اہم بین الحکومتی پلیٹ فارم ہے۔ اجلاسوں میں تجارت، سرمایہ کاری، نجی شعبے، مالیاتی سہولتوں اور رکن ممالک کے درمیان رابطہ کاری جیسے موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے وزارتی سطح پر شرکت کا مقصد ان فورمز میں قومی تجارتی ترجیحات پیش کرنا اور ممکنہ شراکت داریوں کے لیے سفارتی و تجارتی رابطے بڑھانا ہے۔

وزارت تجارت کے لیے اصل امتحان ان ملاقاتوں کے بعد سامنے آنے والی عملی پیش رفت ہوگی، مثلاً ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں میں کمی، کاروباری روابط، برآمدی آرڈرز، مشترکہ منصوبوں یا تجارتی سہولت کاری کے اقدامات۔ موجودہ مرحلے پر حکومت نے کسی مخصوص نئے معاہدے، سرمایہ کاری کی رقم یا برآمدی ہدف کا اعلان نہیں کیا۔

پاکستانی وفد کی آئندہ سرگرمیوں میں کامسیک کے وزارتی مباحث اور متعلقہ ممالک کے نمائندوں کے ساتھ الگ ملاقاتیں شامل ہوں گی۔ ان ملاقاتوں کے نتائج اور کسی ممکنہ مفاہمت یا فیصلے کی تفصیلات سرکاری سطح پر بعد میں جاری ہونے والے بیانات سے واضح ہوں گی۔