اسلام آباد: موبائل نیٹ ورک آپریٹر جاز نے ملک بھر میں اپنے ایک ہزار سیل مقامات کو 5G سے منسلک کر دیا ہے۔ ڈان کی 28 اگست کی رپورٹ کے مطابق جاز جی ایس ایم کے صدر کاظم مجتبیٰ نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ کمپنی رواں سال کے اختتام تک 5G سے منسلک مقامات کی تعداد 2,500 تک بڑھانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ اعداد کمپنی کے نمائندے کی فراہم کردہ معلومات ہیں اور رپورٹ میں کسی الگ ریگولیٹری فہرست یا آزاد نیٹ ورک آڈٹ کا حوالہ نہیں دیا گیا۔

کاظم مجتبیٰ نے کہا کہ عام صارف کے لیے 5G کے فوری فوائد محدود ہو سکتے ہیں، جبکہ اس کے بڑے استعمال صنعتی اداروں، کاروباری خدمات اور سرکاری شعبے میں سامنے آنے کی توقع ہے۔ تیز رفتار اور کم تاخیر والے رابطے سے مشینوں، سینسرز اور ادارہ جاتی نظام کو مسلسل ڈیٹا منتقل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، مگر ہر استعمال کے لیے متعلقہ آلات، سافٹ ویئر، فریکوئنسی دستیابی اور کاروباری سرمایہ کاری بھی ضروری ہوگی۔

جاز کے صدر کے مطابق 5G نیٹ ورک 4G کے مقابلے میں تقریباً دو گنا بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اسی بنیاد پر کمپنی نے گرڈ اسٹیشنوں اور متعلقہ بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان مقامات پر بیٹری بیک اپ کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ بجلی کی کھپت کا یہ تقابلی عدد جاز کا بیان ہے؛ مختلف مقام، ٹریفک، ریڈیو آلات اور توانائی بچت کی ترتیب کے باعث عملی کھپت میں فرق آ سکتا ہے۔

بریفنگ میں عمارتوں کے اندر 5G سے منسلک سینسر نیٹ ورک کی ممکنہ افادیت بھی بیان کی گئی۔ کمپنی کے نمائندے نے کہا کہ ایسے سینسر غیر معمولی حدت یا بجلی کے زیادہ استعمال کی نشاندہی کرکے متعلقہ حکام کو قبل از وقت اطلاع دے سکتے ہیں۔ اسلام آباد کے پمز اسپتال میں حالیہ آگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مثال دی کہ ایئرکنڈیشننگ پلانٹس جیسے آلات کی نگرانی ممکنہ خطرے کو جلد ظاہر کر سکتی ہے۔ یہ ایک مجوزہ تکنیکی استعمال ہے؛ رپورٹ یہ نہیں کہتی کہ پمز یا تمام 5G مقامات پر ایسا نظام نصب ہو چکا ہے۔

5G کے پھیلاؤ میں صرف موبائل ٹاور کی اپ گریڈیشن کافی نہیں ہوتی۔ قابل اعتماد بجلی، فائبر یا دوسرے بیک ہال رابطے، موزوں ہینڈ سیٹس، اسپیکٹرم اور ادارہ جاتی استعمال کے منصوبے بھی رفتار اور معیار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم موجودہ رپورٹ نے سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت، ہر شہر میں فعال مقامات کی تعداد یا عام صارف کے لیے کوریج کا تفصیلی نقشہ فراہم نہیں کیا، اس لیے ایک ہزار مقامات کو ملک گیر یکساں کوریج کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ جاز نے اپنے بیان کے مطابق ایک ہزار مقامات 5G سے جوڑ دیے ہیں، سال کے آخر تک 2,500 کا ہدف رکھا ہے اور اضافی توانائی ضرورت کے باعث بجلی کے نظام میں بہتری مانگی ہے۔ مستقبل کا ہدف مکمل شدہ تعیناتی نہیں، جبکہ صنعتی و حفاظتی استعمال بیان کردہ امکانات ہیں۔ اگلی قابل پیمائش پیش رفت نئے فعال مقامات، جغرافیائی کوریج اور عملی ادارہ جاتی خدمات کے اعداد سامنے آنے پر واضح ہوگی۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک