کراچی: سندھ حکومت نے اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریس سسٹم، یعنی سامرز، کو صوبے کے 3,647 سرکاری اسکولوں تک وسیع کرنے کی اطلاع دی ہے۔ ڈان کی 28 اگست کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام صوبائی حکومت کی جاری ڈیجیٹل اصلاحات کا حصہ ہے اور نظام کا مقصد طلبہ کی حاضری کے ساتھ ان کا تعلیمی سفر مرکزی ڈیجیٹل ریکارڈ میں محفوظ کرنا ہے۔
یہ نظام سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کی ہدایات پر متعارف کرایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق سامرز میں طالب علم کی روزانہ حاضری، تعلیمی کارکردگی، امتحانی نتائج، جماعت میں ترقی اور ایک اسکول سے دوسرے اسکول منتقلی کا ریکارڈ رکھا جا سکتا ہے۔ ہر طالب علم کے لیے منفرد شناختی نمبر اور کیو آر کوڈ جاری کرنے کی سہولت بھی نظام کا حصہ ہے تاکہ مختلف تعلیمی مراحل کا ریکارڈ ایک ہی پروفائل سے منسلک رہے۔
خبر کی سرخی اور ابتدائی بیان میں نظام کو 3,647 اسکولوں تک وسیع کرنے کی اطلاع ہے، جبکہ جمعرات کو جاری پریس ریلیز کے مطابق 27 اگست تک 3,481 سرکاری اسکول عملی طور پر پلیٹ فارم پر شامل ہو چکے تھے۔ دستیاب رپورٹ ان دونوں اعداد کے فرق کی الگ وضاحت نہیں کرتی۔ اس لیے 3,647 کو اعلان کردہ توسیعی دائرہ اور 3,481 کو 27 اگست تک آن بورڈ کیے گئے اسکولوں کی تعداد کے طور پر الگ الگ بیان کیا جا رہا ہے، انہیں ایک ہی مرحلے کا حتمی عدد نہیں سمجھا گیا۔
صوبائی کابینہ نے سامرز پالیسی 2026 کی منظوری رواں سال مارچ میں دی تھی۔ حکومت نے اپریل 2027 تک سندھ کے تمام سرکاری اسکولوں کو اس نظام میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ مستقبل کا ہدف ہے؛ موجودہ رپورٹ یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ صوبے کا ہر اسکول پہلے ہی منسلک ہو چکا ہے یا تمام طلبہ کے مکمل ڈیجیٹل پروفائل تیار ہو گئے ہیں۔
نظام روزانہ، ماہانہ اور سالانہ حاضری رپورٹیں تیار کرنے اور سرٹیفکیٹس کے اجرا میں معاونت دے سکتا ہے۔ طویل غیر حاضری کی صورت میں والدین کو ایس ایم ایس، ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے اطلاع دینے کی سہولت بھی شامل کی گئی ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق اس کا مقصد صرف حاضری درج کرنا نہیں بلکہ مسلسل غیر حاضر رہنے والے اور تعلیم چھوڑنے کے خطرے سے دوچار طلبہ کی بروقت شناخت کرکے مداخلت ممکن بنانا ہے۔
کمزور انٹرنیٹ والے علاقوں کے لیے آف لائن فعالیت شامل کرنے کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جغرافیائی حدود سے منسلک حاضری اور آف لائن چہرہ شناخت کرنے کی سہولت کو بھی نظام میں شامل کیا گیا ہے۔ ان سہولتوں کا بیان نظام کی اعلان کردہ صلاحیتوں کے طور پر ہے؛ خبر میں کسی آزاد تکنیکی آڈٹ، درستگی کی شرح، غلط شناخت کے اعداد یا ہر مقام پر کامیاب عملی استعمال کی تفصیل نہیں دی گئی۔
مرکزی ڈیجیٹل ریکارڈ کے ذریعے اسکول تبدیل ہونے، امتحانی کارکردگی اور غیر حاضری کی تاریخ کو مسلسل محفوظ رکھنے کا منصوبہ تعلیمی انتظامیہ کو فیصلوں کے لیے یکجا معلومات فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم حاضری کے بہتر اعداد یا ڈراپ آؤٹ میں کمی کا حقیقی نتیجہ مستقبل کے قابل موازنہ ڈیٹا سے ہی ثابت ہوگا۔ موجودہ رپورٹ نظام کی توسیع اور خصوصیات کی خبر دیتی ہے، تعلیمی نتائج میں پہلے سے ثابت شدہ بہتری کی نہیں۔
رپورٹ میں طلبہ کے ڈیٹا کے تحفظ، چہرہ شناخت کے قواعد، والدین کی رضامندی، ریکارڈ تک رسائی کی سطح اور ڈیٹا محفوظ رکھنے کی مدت کی تفصیل شامل نہیں۔ ان موضوعات پر کوئی قطعی نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے آئندہ محکمانہ پالیسی یا تکنیکی دستاویزات کا انتظار ضروری ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ نکات اعلان کردہ 3,647 اسکولوں کا دائرہ، 27 اگست تک 3,481 اسکولوں کی آن بورڈنگ، اپریل 2027 کا صوبہ بھر کا ہدف اور رپورٹ میں بیان کردہ حاضری و ریکارڈ سہولتیں ہیں۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




