سوشل میڈیا کمپنی میٹا نے نوعمر صارفین کے لیے فیس بک اور انسٹاگرام کے روزانہ استعمال پر نئی پابندیاں قبول کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی براہ راست دیکھی گئی رپورٹ کے مطابق بنیادی حد روزانہ دو گھنٹے ہوگی، تاہم والدین یا سرپرست مزید وقت کی منظوری دے سکیں گے۔ اس ترتیب میں اختیار مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا بلکہ اضافی استعمال کو والدین کی واضح اجازت سے مشروط کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی آدھی رات سے صبح چھ بجے تک نوعمر صارفین کی رسائی روکے گی۔ اسی طرح اسکول کے اوقات میں پش نوٹیفکیشن بند رکھے جائیں گے تاکہ پڑھائی کے دوران بار بار آنے والے انتباہات اور توجہ بٹنے کے امکانات کم ہوں۔ یہ اقدامات صرف وقت کی مجموعی حد تک محدود نہیں بلکہ رات کے آرام اور تعلیمی اوقات کے لیے الگ حفاظتی وقفے بھی قائم کرتے ہیں۔

نئی ترتیب کا عملی اثر صارف کی عمر، والدین کی منظوری اور پلیٹ فارم کی جانب سے نافذ کیے جانے والے اکاؤنٹ کنٹرولز پر منحصر ہوگا۔ براہ راست دیکھی گئی رپورٹ میں نفاذ کے تمام تکنیکی مراحل، ہر ملک کے لیے الگ آغاز کی تاریخ یا عمر کی ہر ذیلی حد بیان نہیں کی گئی، اس لیے ان پہلوؤں کے بارے میں قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ خبر کا قابل تصدیق حصہ یہی ہے کہ روزانہ دو گھنٹے کی بنیادی حد، رات کی بندش اور اسکول کے وقت نوٹیفکیشن روکنے پر اتفاق رپورٹ ہوا ہے۔

ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق میٹا اگلی دہائی کے دوران اٹھارہ ارب ڈالر تک ادا کرنے پر بھی رضامند ہوا ہے۔ یہ رقم ان الزامات سے متعلق معاملات نمٹانے کے تناظر میں بیان کی گئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پلیٹ فارم بچوں کو زیادہ دیر مصروف رکھنے کے لیے بنائے گئے اور حفاظت کے بارے میں صارفین کو گمراہ کیا گیا۔ یہ الزامات اپنی جگہ دعوے ہیں؛ رپورٹ میں انہیں کسی حتمی عدالتی حقیقت یا کمپنی کی جانب سے ہر الزام کے اعتراف کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

نوعمر صارفین کے لیے وقت کی حد کا مقصد صرف اسکرین ٹائم کم کرنا نہیں بلکہ والدین کو استعمال کی مدت پر براہ راست اختیار دینا بھی ہے۔ رات کے وقت خودکار بندش نیند کے معمول کو سہارا دے سکتی ہے، جبکہ اسکول کے دوران پش نوٹیفکیشن روکنے سے تعلیمی سرگرمی میں خلل کم کرنے کی کوشش سامنے آتی ہے۔ تاہم کسی بھی حفاظتی نظام کی افادیت درست عمر کے اندراج، اکاؤنٹ کی مناسب درجہ بندی اور والدین کے کنٹرول کے قابل اعتماد نفاذ سے جڑی رہتی ہے۔

میٹا کی جانب سے ان تبدیلیوں کے نفاذ، مختلف خطوں میں دستیابی اور والدین کے لیے کنٹرول کے طریقہ کار کی مزید تفصیلات سامنے آنے پر صورت حال زیادہ واضح ہوگی۔ فی الحال رپورٹ ایک پالیسی اتفاق اور متوقع حفاظتی حدود بیان کرتی ہے، مکمل عالمی نفاذ یا ہر نوعمر اکاؤنٹ پر فوری یکساں اطلاق کی تصدیق نہیں کرتی۔ اردو ہیڈ لائنز اس فرق کو برقرار رکھتے ہوئے آئندہ سرکاری یا کمپنی سطح کی تفصیل کو الگ پیش کرے گا۔