واشنگٹن: امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے چین سے منسلک ایک ایسے ہیکنگ آپریشن کو غیر فعال کر دیا ہے جو امریکی محکمہ انصاف، ناسا، فیڈرل ریزرو، سینیٹ اور دیگر سرکاری و نجی اداروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں استعمال ہو رہا تھا۔ ایکسپریس اردو کی 27 اگست کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے کارروائی کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے دو پلیٹ فارمز سے متعلق ڈومین ضبط کرنے کا اعلان کیا۔
رپورٹ میں خبر رساں ادارے رائٹرز کے حوالے سے بتایا گیا کہ ضبط کیے گئے ڈومین QScan اور QTRouter نامی پلیٹ فارمز کے زیر استعمال تھے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پلیٹ فارم ایک چینی کمپنی نانجنگ شنجیووئی نیٹ ورک ٹیکنالوجی چلاتی تھی۔ محکمہ انصاف کے بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ کمپنی کے صارفین میں چین کی وزارتِ ریاستی سلامتی، جو ملک کی سویلین انٹیلی جنس ایجنسی ہے، اور پیپلز لبریشن آرمی سے وابستہ ادارے شامل تھے۔
امریکی حکام کی طرف سے عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں محکمہ توانائی، محکمہ صحت و انسانی خدمات اور قومی ادارۂ صحت کو ممکنہ متاثرین میں شمار کیا گیا۔ اس کے علاوہ امریکا اور جنوبی کوریا کی چار ایسی کمپنیوں کا ذکر بھی کیا گیا جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ دستیاب رپورٹ یہ نہیں بتاتی کہ ہر ادارے سے کون سا ڈیٹا حاصل کیا گیا، کتنے نظام عملی طور پر متاثر ہوئے یا کسی معلومات کے اخراج کی حتمی مقدار کیا تھی؛ اس لیے کارروائی کو امریکی حکام کے بیان کردہ دعوؤں کے دائرے میں ہی سمجھا جانا چاہیے۔
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے جواب میں کہا کہ اسے امریکی محکمہ انصاف کے بیان میں شامل مخصوص تفصیلات کا علم نہیں۔ سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق چینی حکومت قانون کے مطابق ہر قسم کے سائبر حملے کی مخالفت کرتی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ ترجمان نے امریکا پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ سائبر سکیورٹی کے معاملات کو چین کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
یہ معاملہ تکنیکی کارروائی، عدالتی حلف نامے اور متضاد سرکاری موقف پر مشتمل ہے۔ ڈومین ضبط کیے جانے کا اعلان امریکی محکمہ انصاف کی کارروائی ہے، جبکہ آپریشن کی چینی ریاستی اداروں سے نسبت امریکی حکام کا الزام ہے جسے چینی فریق نے قبول نہیں کیا۔ مزید عدالتی دستاویزات یا فرانزک تفصیلات سامنے آنے پر ہی حملے کے مکمل دائرے اور اثرات کا زیادہ قطعی تعین ممکن ہوگا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




