ایکسپریس اردو کی ٹیکنالوجی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ صارفین کے اکاؤنٹس کو غیر مجاز رسائی سے بچانے کے لیے ٹو اسٹیپ ویری فکیشن کے طریقے کو مزید مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ چھ ہندسوں کے پن کی جگہ ایسا طویل پاس ورڈ دینے کی گنجائش زیرِ غور ہے جس میں حروف، اعداد اور خصوصی علامات شامل کی جا سکیں۔ یہ پیش رفت ابھی ہر صارف کے لیے یکساں طور پر دستیاب حتمی فیچر کے طور پر بیان نہیں کی گئی، اس لیے مختلف فونز اور ایپ ورژنز میں اس کی موجودگی مختلف ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چھ ہندسوں کا پن یاد رکھنا آسان ہے، مگر کمزور یا اندازہ لگایا جا سکنے والا پن اکاؤنٹ کی حفاظت محدود کر سکتا ہے۔ طویل پاس ورڈ کا مقصد یہی اضافی رکاوٹ پیدا کرنا ہوگا تاکہ فون نمبر یا تصدیقی کوڈ تک عارضی رسائی ملنے کے باوجود کسی دوسرے شخص کے لیے اکاؤنٹ سنبھالنا مشکل ہو۔ صارف کے لیے عملی اصول یہی ہے کہ اگر یہ اختیار اس کے اکاؤنٹ میں ظاہر ہو تو منفرد اور مضبوط پاس ورڈ استعمال کرے اور اسے کسی دوسرے شخص کے ساتھ شیئر نہ کرے۔
اینڈرائیڈ صارفین کے لیے نامعلوم نمبر سے آنے والی کال کی معلومات میں ممکنہ توسیع کا بھی ذکر ہے۔ ایکسپریس اردو کے مطابق ایپ کال کرنے والے نمبر کے ملک اور، جہاں قابل اطلاق ہو، کسی مشترک گروپ سے ممکنہ تعلق کی معلومات دکھا سکتی ہے۔ ایسی معلومات صرف شناخت میں مدد دے سکتی ہیں؛ یہ کسی کال کو لازماً محفوظ یا دھوکا دہی قرار دینے کا قطعی ثبوت نہیں۔ نامعلوم شخص کی طرف سے کوڈ، پاس ورڈ، مالی معلومات یا فوری ادائیگی کا مطالبہ ہو تو صارف کو الگ معتبر ذریعے سے شناخت کی تصدیق کرنی چاہیے۔
رپورٹ میں پاس کیز کے استعمال کی حوصلہ افزائی بھی نمایاں ہے۔ پاس کی کے ذریعے فون کا فنگر پرنٹ، چہرے کی شناخت یا اسکرین لاک استعمال کرکے اکاؤنٹ تک رسائی کی جا سکتی ہے، جس سے روایتی پاس ورڈ یاد رکھنے کی ضرورت کم ہوتی ہے۔ ایکسپریس اردو نے واٹس ایپ کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاس کی استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب سے بڑھ چکی ہے اور ایک صارف مختلف آلات پر متعدد پاس کیز بنا سکتا ہے۔ یہ تعداد اور سہولت رپورٹ میں واٹس ایپ سے منسوب ہیں؛ آزاد تکنیکی آڈٹ کے اعداد کے طور پر پیش نہیں کیے جا رہے۔
رپورٹ کے مطابق جن اکاؤنٹس میں پاس کی کا اختیار موجود ہو وہاں اسے ایپ کی سیٹنگز میں اکاؤنٹ اور پھر پاس کیز کے حصے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ مینو کا نام یا ترتیب آپریٹنگ سسٹم، زبان اور ایپ ورژن کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔ اگر اختیار نظر نہ آئے تو اس کا لازماً یہ مطلب نہیں کہ اکاؤنٹ میں خرابی ہے؛ مرحلہ وار اجرا کی وجہ سے فیچر بعد میں بھی دستیاب ہو سکتا ہے۔ صارف کو صرف سرکاری ایپ اسٹور سے واٹس ایپ اپ ڈیٹ کرنا چاہیے اور کسی پیغام یا غیر مانوس ویب سائٹ کے ذریعے موصول ہونے والی جعلی اپ ڈیٹ فائل سے گریز کرنا چاہیے۔
ٹو اسٹیپ ویری فکیشن، پاس کی اور نامعلوم کال کی معلومات الگ الگ حفاظتی تہیں ہیں، مگر کوئی ایک فیچر ہر قسم کی دھوکا دہی ختم نہیں کرتا۔ اکاؤنٹ کی بازیابی کے کوڈ، رجسٹریشن کوڈ اور اسکرین لاک کو محفوظ رکھنا بدستور ضروری ہے۔ واٹس ایپ کی جانب سے حتمی اجرا، تمام پلیٹ فارمز کی دستیابی یا فیچر کے نام میں تبدیلی کی باضابطہ تفصیل سامنے آنے پر اسی ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




