اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی خالی آسامیوں سے متعلق نئی پالیسی کو عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ درخواست میں اس فیصلے پر اعتراض اٹھایا گیا ہے جس کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کی بعض آسامیوں کو براہ راست نئی تقرری کے بجائے دوسری ہائی کورٹس سے ججوں کے تبادلے کے ذریعے پُر کرنے کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صرف تبادلے پر مبنی پالیسی امتیازی ہے، اسے ماضی سے مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا اور یہ آئینی و قانونی صوابدید کو غیر ضروری طور پر محدود کرتی ہے۔ یہ تمام نکات درخواست گزار کے قانونی دعوے ہیں؛ عدالت نے ابھی ان اعتراضات کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
جوڈیشل کمیشن پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری سے متعلق آئینی عمل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی تشکیل اور اس میں مختلف صوبوں اور علاقوں کی نمائندگی کا سوال ماضی میں بھی قانونی اور آئینی بحث کا موضوع رہا ہے۔ حالیہ درخواست اس بحث کو اس مخصوص پالیسی کے تناظر میں دوبارہ عدالتی جانچ کے سامنے لے آئی ہے۔
درخواست میں پالیسی کے ممکنہ ماضی سے اطلاق پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ قانونی طور پر یہ نکتہ اس لیے اہم ہو سکتا ہے کہ اگر کسی تقرری یا خالی آسامی کا عمل پہلے سے شروع ہو چکا ہو تو بعد میں اپنائے گئے معیار کو اس پر کس حد تک لاگو کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس سوال کا حتمی جواب متعلقہ عدالت ہی اپنے فیصلے میں دے گی۔
ایک اور اعتراض یہ ہے کہ کمیشن نے اپنے لیے ایسا عمومی اصول بنا لیا جو ہر آسامی کے انفرادی حالات میں دستیاب آئینی صوابدید کو محدود کر سکتا ہے۔ دوسری جانب پالیسی کے دفاع میں ممکنہ طور پر ادارہ جاتی ضرورت، نمائندگی یا عدالتی انتظام جیسے عوامل زیر بحث آ سکتے ہیں، مگر دستیاب خبر میں ابھی کسی حتمی عدالتی جواب یا فیصلے کی اطلاع نہیں ہے۔
اس مرحلے پر پیش رفت صرف یہ ہے کہ پالیسی کو باقاعدہ قانونی چیلنج کا سامنا ہے۔ درخواست دائر ہونے کو پالیسی کی منسوخی یا غیر آئینی قرار دیے جانے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ آئندہ سماعتوں میں جوڈیشل کمیشن یا متعلقہ حکام کا جواب اور عدالت کی تشریح اس معاملے کی قانونی سمت متعین کرے گی۔

