لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جھنگ میں حالیہ تھل جیپ ریلی کے دوران پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی سرکاری گاڑی استعمال کیے جانے پر ڈپٹی کمشنر جھنگ بابر صاحب دین کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے سرکاری وسائل کو ادارے کے مقررہ دائرہ کار سے باہر استعمال کرنے کو انتظامی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

ڈان کے مطابق تین روزہ جھنگ تھل جیپ ریلی گزشتہ ہفتے اختتام پذیر ہوئی تھی اور اسے نجی اسپانسرز کے تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کرنے لگی جس میں پیرا کی ایک گاڑی کو دیگر گاڑیوں کے ساتھ ریلی میں شریک دیکھا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ریگولیٹری اتھارٹی کے وسائل کا غیر سنجیدہ اور غیر مجاز مقصد کے لیے استعمال طے شدہ پالیسی کے خلاف ہے۔

مریم نواز نے صوبائی حکومت کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کا نوٹیفکیشن بھی شیئر کیا، جس کے مطابق بابر صاحب دین کو فوری طور پر تبدیل کرکے محکمے میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بعد میں اس مؤقف کے جواب میں کہ پیرا کی گاڑی ریلی کے دوران سکیورٹی یا ریسکیو کے مقصد سے موجود تھی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ سکیورٹی پولیس اور ہنگامی امداد ریسکیو 1122 کی ذمہ داری ہے، جبکہ یہ دونوں کام پیرا کے قانونی مینڈیٹ میں شامل نہیں۔

رپورٹ کے مطابق پیرا کے ڈائریکٹر جنرل فرخ عتیق خان نے 21 اکتوبر کو تمام ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی انفورسمنٹ و ریگولیٹری بورڈز کے چیئرپرسنز کو ایک خط بھی جاری کیا تھا، جس میں پیرا کی ڈبل کیبن گاڑیوں کے غیر مجاز استعمال کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں واپس لینے یا درست جگہ تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

پیرا گزشتہ سال پنجاب میں تجاوزات اور قیمتوں کی نگرانی سمیت ضابطہ جاتی کارروائیوں کے لیے قائم کی گئی تھی۔ ادارے کے اہلکاروں کے خلاف ماضی میں رشوت اور عوام کو ہراساں کرنے کی شکایات بھی سامنے آ چکی ہیں، جس پر صوبائی حکومت نے احتساب اور باڈی کیمروں سمیت مختلف اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ تازہ کارروائی سرکاری گاڑیوں اور نئے ریگولیٹری ادارے کے وسائل کے استعمال پر انتظامی جواب دہی کا معاملہ بن گئی ہے۔