اسلام آباد: جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے معاملے پر وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں پہنچ گئے ہیں اور اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بات چیت کو نتیجہ خیز بنا کر صارفین کو پائیدار ریلیف فراہم کرے۔ ڈان کی 6 نومبر کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اسلام آباد میں پارٹی اجلاس کی صدارت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے مذاکراتی عمل کو موقع دینے اور مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔
لیاقت بلوچ نے خبردار کیا کہ اگر حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی تو جماعت اسلامی احتجاجی مارچ کا راستہ اختیار کرنے میں خود کو حق بجانب سمجھے گی۔ ان کے مطابق پارٹی کا مقصد وقتی رعایت کے بجائے ایسا پائیدار ریلیف حاصل کرنا ہے جس سے معاشی سرگرمی میں بہتری آسکے۔ یہ جماعت اسلامی کا سیاسی مؤقف ہے؛ حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی ختم کرنے یا کسی مخصوص شرح میں کمی کا حتمی سرکاری اعلان ابھی سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ کے مطابق لیاقت بلوچ نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سے بھی رابطہ کیا اور فیصلوں کو حتمی شکل دینے پر زور دیا۔ اسحاق ڈار نے انہیں بتایا کہ وہ دورہ کرنے والے سفارتی رہنماؤں کے ساتھ اجلاس میں مصروف ہیں اور حکومت کے اگلے اقدامات سے اگلے روز آگاہ کریں گے۔ جماعت اسلامی کے ماہرین نے پارٹی قیادت کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر بریفنگ بھی دی۔
پٹرولیم لیوی سے متعلق تجاویز مرتب کرنے کے لیے حکومت اور جماعت اسلامی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ تکنیکی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ اس سے قبل تکنیکی ماہرین کا اجلاس وزارت خزانہ میں ہوا۔ جماعت اسلامی کے نمائندوں کے مطابق کمیٹی کو حتمی فیصلے تک پہنچنے کے لیے حکومت کی مزید ہدایات کا انتظار تھا۔ اس مرحلے پر کسی حتمی فارمولے، مالی اثر یا لیوی میں کمی کے نفاذ کی تصدیق نہیں ہوئی۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے مختلف ادوار اور وزیراعظم شہباز شریف سے جماعت اسلامی کے امیر کی ملاقات میں صارفین کو ریلیف دینے کے اصول پر بات ہوئی۔ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کو بتدریج ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے، تاہم اس مطالبے کی منظوری، وقت بندی اور مالی متبادل کے بارے میں حکومت نے حتمی فیصلہ جاری نہیں کیا۔ اس لیے تازہ پیش رفت کو مذاکرات کے آخری مرحلے میں داخل ہونے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ لیوی کے خاتمے کے منظور شدہ حکومتی فیصلے کے طور پر۔
