اسلام آباد: قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے بتایا ہے کہ ایوان کے 30ویں اجلاس میں مجموعی طور پر 24 بل منظور کیے گئے، جن میں 17 سرکاری اور سات نجی اراکین کے بل شامل تھے۔ اجلاس 13 اکتوبر سے 30 اکتوبر 2026 تک جاری رہا اور اس دوران قانون سازی کے ساتھ انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کی تحریک بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق منظور ہونے والے 17 سرکاری بلوں میں سے سات مزید کارروائی کے لیے سینیٹ کو بھیجے گئے، جبکہ 10 بل صدرِ مملکت کی منظوری کے لیے ارسال کیے گئے۔ نجی اراکین کے منظور شدہ سات بلوں میں سے پانچ سینیٹ اور دو صدر کو بھیجے گئے۔ یہ اعداد اس اجلاس کے دوران ایوان سے مکمل ہونے والے قانون سازی کے مرحلے کی تصویر پیش کرتے ہیں، تاہم ہر بل کا قانون بننا متعلقہ آئینی مراحل کی تکمیل سے مشروط ہے۔

اسی اجلاس میں 16 نئے بل بھی ایوان میں متعارف کرائے گئے، جن میں نو سرکاری اور سات نجی اراکین کے بل شامل تھے۔ بل کا متعارف ہونا اور اس کی منظوری الگ پارلیمانی مراحل ہیں، اس لیے ان 16 بلوں کو منظور شدہ 24 بلوں میں شامل نہیں کیا گیا۔ سیکریٹریٹ نے بتایا کہ مختلف مسودات پر اتحادی جماعتوں اور حزب اختلاف کے تحفظات دور کرنے کے لیے اسپیکر سردار ایاز صادق نے سلیکٹ کمیٹی کے متعدد اجلاس بھی طلب کیے۔

قومی اسمبلی کے بیان کے مطابق سلیکٹ کمیٹی میں پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں، متعلقہ وزارتوں کے حکام اور اسمبلی سیکریٹریٹ کے افسران نے شرکت کی۔ سیکریٹریٹ کا کہنا ہے کہ ان مشاورتوں کے نتیجے میں بیشتر امور پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں مدد ملی اور متعدد بلوں کی منظوری کی راہ ہموار ہوئی۔ یہ سرکاری پارلیمانی جائزہ ہے؛ ہر بل پر سیاسی جماعتوں کے انفرادی مؤقف اور اختلافات اس مجموعی خلاصے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

اجلاس کے دوران پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات قائم کرنے کی تحریک کی متفقہ منظوری بھی اہم پیش رفت رہی۔ یہ کمیٹی انتخابی قوانین اور طریقہ کار سے متعلق تجاویز پر غور کے لیے پارلیمانی فورم فراہم کرے گی۔ تاہم کمیٹی کی تشکیل بذات خود کسی انتخابی قانون میں تبدیلی نہیں؛ کسی بھی مجوزہ اصلاح کو نافذ ہونے کے لیے متعلقہ قانون سازی اور آئینی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔

سیکریٹریٹ کے مطابق اسپیکر نے سوالات کے وقفے کے دوران وزرا اور پارلیمانی سیکریٹریوں کی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایات بھی دیں، جبکہ متعلقہ وزارتوں کے سینئر افسران کو گیلریوں میں موجود رہنے کا کہا گیا تاکہ اراکین کے سوالات اور توجہ دلاؤ نوٹسز کے بروقت جواب میں سہولت ہو۔ پارلیمانی جماعتوں کو پوائنٹس آف آرڈر کے ذریعے معاملات اٹھانے اور اپنے مؤقف پیش کرنے کے مواقع دینے کا بھی ذکر کیا گیا۔

30ویں اجلاس کی یہ کارکردگی قانون سازی کی مقدار، کمیٹی مشاورت اور نگرانی کے پارلیمانی طریقہ کار کا مجموعی ریکارڈ فراہم کرتی ہے۔ منظور شدہ بلوں کے عملی اثرات کا تعین ان کے متن، سینیٹ یا صدارتی مراحل اور بعد ازاں نفاذ سے ہوگا، اس لیے 24 بلوں کی منظوری کو ان تمام مسودات کے فوری طور پر نافذ قانون بن جانے کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔