راولپنڈی: جماعتِ اسلامی پاکستان نے پٹرولیم لیوی اور بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں کے خلاف اپنی احتجاجی مہم کو اگلے مرحلے میں لے جاتے ہوئے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ جماعت کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے پٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو ملک کے مختلف حصوں سے قافلے وفاقی دارالحکومت پہنچیں گے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق حافظ نعیم الرحمٰن نے مری روڈ پر جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعتِ اسلامی احتجاج کو پرامن اور جمہوری طریقے سے آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت تشدد کی حامی نہیں اور اپنے مطالبات کے لیے عوامی دباؤ اور سیاسی احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔ جماعتِ اسلامی کی اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بھی 20 ستمبر کے مارچ اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے کی تصدیق کی گئی ہے۔

حافظ نعیم نے الزام عائد کیا کہ حکومت مذاکرات کے دوران بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے اور اس طرزِ عمل سے عوام پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ انہوں نے فی لیٹر پٹرولیم لیوی کی موجودہ سطح پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے فوری طور پر کم یا ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے بقول ملک میں کئی مقامات پر احتجاجی کیمپ اور دھرنے جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید مقامات پر احتجاج منظم کیا جائے گا۔

جماعتِ اسلامی کے امیر نے حکومت سے سرکاری اخراجات اور حکمران طبقے کی مراعات کم کرنے، محصولات کے اہداف بہتر طریقے سے پورے کرنے اور عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اپنے مالیاتی نظم و نسق میں اصلاحات کرے تو پٹرولیم لیوی پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ جماعتِ اسلامی کا سیاسی مؤقف ہے اور حکومت نے ان تمام دعوؤں اور اعداد پر اسی نوعیت کی جامع جوابی وضاحت جاری نہیں کی۔

پٹرولیم لیوی حالیہ دنوں میں سیاسی اور معاشی بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور پاکستان میں پٹرول و ڈیزل کی بلند قیمتوں نے عوامی دباؤ بڑھایا ہے۔ وفاقی حکومت مالیاتی اہداف اور آئی ایم ایف پروگرام کی ضروریات کے تناظر میں لیوی میں بڑی کمی سے گریز کرتی رہی ہے، جبکہ اپوزیشن اور بعض سیاسی جماعتیں اسے مہنگائی میں اضافے کا ایک بڑا سبب قرار دے رہی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن کے مطابق 20 ستمبر کو ملک بھر سے قافلے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات جاری رہیں تو جماعت ان میں شریک ہو سکتی ہے، تاہم احتجاجی پروگرام واپس لینے کا فیصلہ پٹرولیم لیوی پر عملی پیش رفت سے مشروط ہوگا۔ آئندہ دنوں میں حکومت اور جماعتِ اسلامی کے درمیان بات چیت اور وفاقی دارالحکومت میں ممکنہ انتظامی اقدامات اس سیاسی کشیدگی کی سمت متعین کریں گے۔