لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور عوام کو مؤثر ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو جماعت اسلامی نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی جانب مارچ کرے گی۔ انہوں نے یہ اعلان منصورہ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا، ایسے وقت میں جب حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات اور اعلیٰ سطح رابطے جاری ہیں۔
حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی نے بین الاقوامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ داری اور تحمل کا مظاہرہ کیا، لیکن اب حکومت کو واضح پیش رفت دکھانا ہوگی۔ ان کے مطابق پارٹی کا بنیادی مطالبہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے اور محض ملاقات یا مذاکرات کو کامیابی نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے عوام کے لیے قابل ذکر ریلیف اور لیوی کے بارے میں عملی قدم سامنے نہ آیا تو جماعت اسلامی پوری قوت کے ساتھ وفاقی دارالحکومت کی طرف مارچ کرے گی۔
حالیہ دنوں میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے رابطہ کیا تھا۔ جماعت اسلامی کے مطابق حکومتی نمائندوں نے بتایا کہ پٹرولیم لیوی پر ہونے والی پیش رفت سے وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف اور حافظ نعیم کے درمیان ملاقات متوقع ہے۔ تاہم جماعت اسلامی نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسی ملاقات کو نتیجہ خیز دیکھنا چاہتی ہے اور اس کا احتجاجی آپشن بدستور موجود ہے۔
پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی مہم کئی ماہ سے جاری ہے۔ پارٹی نے صوبائی دارالحکومتوں اور مختلف شہروں میں دھرنے اور احتجاج کیے، ستمبر میں ملک گیر ہڑتال کی کال دی اور بعد ازاں اسلام آباد کی جانب مارچ بھی شروع کیا تھا۔ وہ مارچ وزیراعظم کی جانب سے بات چیت کی یقین دہانی کے بعد ملتوی کیا گیا، لیکن جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ اس نے اپنا بنیادی مطالبہ واپس نہیں لیا۔
حافظ نعیم نے حکومت کی جانب سے مخصوص موٹر سائیکل، رکشا اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کے لیے دیے گئے ریلیف کو ناکافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایندھن کی بلند قیمتوں اور ڈیزل کی لاگت کے اثرات ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر چیزوں تک منتقل ہوتے ہیں، اس لیے محدود طبقے کے لیے رعایت پورے مسئلے کا حل نہیں۔ یہ جماعت اسلامی کا سیاسی اور معاشی مؤقف ہے؛ حکومت نے مختلف مراحل پر قیمتوں میں ردوبدل اور ہدفی ریلیف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
تازہ سرکاری قیمتوں کے مطابق پٹرول پر ٹیکس اور ڈیوٹیز کا مجموعی بوجھ نمایاں ہے، جبکہ جماعت اسلامی خاص طور پر پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں وزیراعظم اور جماعت اسلامی کی قیادت کے درمیان ممکنہ ملاقات اس تنازعے کے اگلے مرحلے کے لیے اہم ہوگی۔ اگر مذاکرات میں قابل قبول پیش رفت نہ ہوئی تو حافظ نعیم کے اعلان کے مطابق نومبر کے وسط میں ایک نئی اسلام آباد مارچ مہم شروع ہو سکتی ہے۔
