اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کو جناح میڈیکل اینڈ ریسرچ سینٹر کے منصوبے پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ 403 بستروں پر مشتمل زیر تعمیر ہسپتال کا مجموعی طور پر 59 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور اسے 23 مارچ 2027 تک فعال کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے منصوبے کی تعمیراتی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ طے شدہ اہداف مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ مرکزی ہسپتال کی بنیادی عمارت اور پارکنگ پلازہ کا بنیادی انفراسٹرکچر تیار ہوچکا ہے، جبکہ طبی آلات کی تنصیب و دیکھ بھال، ڈیجیٹل ہسپتال مینجمنٹ سسٹم اور دیگر انتظامی امور پر کام جاری ہے۔ جدید تشخیصی آلات اور اسکینرز کی خریداری کا عمل بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ طبی مرکز اسلام آباد کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص خیبرپختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے آنے والے مریضوں کو جدید سہولتیں فراہم کرے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہسپتال میں تمام تقرریاں شفاف طریقے اور میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں۔ مزید یہ کہ ہسپتال چلانے کے لیے نجی شعبے کی کسی موزوں تنظیم کو شامل کیا جائے تاکہ علاج معالجے کے معیار کو بین الاقوامی سطح کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔

اجلاس میں کم اور متوسط آمدنی والے مریضوں کے لیے جدید تشخیصی سہولتوں کی دستیابی پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعظم نے PET اسکین سمیت جدید تشخیصی خدمات کو منصوبے کا لازمی حصہ بنانے کی ہدایت کی۔ یہ اقدام اس لیے اہم ہے کہ مہنگی تشخیصی خدمات تک رسائی سرکاری شعبے میں محدود ہونے کی صورت میں مریضوں پر مالی بوجھ بڑھ سکتا ہے۔

حکام نے یہ بھی بتایا کہ اسلام آباد کے سیکٹر H-11 میں منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لیے نظرثانی شدہ ڈیزائن کے تحت قومی مسابقتی بولی کا عمل شروع ہوچکا ہے اور تعمیراتی کام جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔ اجلاس میں منصوبہ بندی، صحت، پارلیمانی امور اور اقتصادی امور سے متعلق وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

حکومت کی جانب سے 23 مارچ 2027 کی تاریخ منصوبے کو فعال کرنے کا موجودہ ہدف ہے؛ اس مرحلے پر اسے مکمل شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ آئندہ مہینوں میں تعمیر، آلات کی خریداری، انتظامی نظام اور آپریٹر کے انتخاب کی پیش رفت اس ہدف کے حصول کے لیے اہم ہوگی۔