المشائرفہ، اردن: اردن میں ایک چرچ میں جنازے کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے سات افراد ہلاک ہو گئے۔ اردن کے پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ کے مطابق جمعہ کو پیش آنے والا واقعہ ملک کی مسیحی اقلیت کے خلاف ایک غیر معمولی حملہ تھا اور حکام نے اسے انتہا پسند عناصر کی دہشت گرد کارروائی قرار دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق حملہ المشائرفہ کے علاقے میں اس وقت ہوا جب لوگ ایک جنازے میں شریک تھے۔ مسلح حملہ آوروں نے چرچ میں موجود افراد پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔ اردنی سکیورٹی حکام نے فوری طور پر علاقے میں کارروائی شروع کی اور واقعے کی نوعیت، حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
اردن میں مسیحی برادری آبادی کا ایک چھوٹا لیکن تاریخی حصہ ہے اور ملک عمومی طور پر مذہبی مقامات کے تحفظ اور مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان نسبتاً مستحکم تعلقات کے لیے جانا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے چرچ کے اندر جنازے کو نشانہ بنانے والا یہ واقعہ غیر معمولی اور حساس سمجھا جا رہا ہے۔ حکام کی جانب سے اسے دہشت گرد حملہ قرار دینے کے بعد سکیورٹی اداروں کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا حملہ کسی منظم انتہا پسند نیٹ ورک سے منسلک تھا۔
ابتدائی سرکاری معلومات میں حملہ آوروں کے محرکات یا کسی مخصوص تنظیم کی ذمہ داری کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے واقعے کے بارے میں کسی گروہ یا نیٹ ورک سے تعلق کے دعوے کو تحقیقات مکمل ہونے تک حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد سات بتائی ہے اور سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ اور اطراف میں تفتیشی اقدامات کیے ہیں۔
یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ کے مختلف حصوں میں جنگ اور علاقائی کشیدگی بڑھی ہوئی ہے۔ اردن خطے کے تنازعات کے اثرات سے بچنے اور داخلی استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ چرچ پر حملے کے بعد حکومت کے لیے مذہبی مقامات کی حفاظت، ممکنہ انتہا پسند خطرات کی نگرانی اور متاثرہ برادری کے تحفظ سے متعلق اقدامات مزید اہم ہو گئے ہیں۔

