سیئول: جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے شمالی کوریا کو ایک بار پھر فوجی مذاکرات کی پیشکش کی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان غیر فوجی علاقے (DMZ) میں زمینی سرحد کی درست جگہ واضح کی جا سکے اور حادثاتی فوجی تصادم کا خطرہ کم ہو۔ یہ تجویز گزشتہ ماہ سرحدی علاقے میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو جنوبی کوریائی فوجیوں کے شدید زخمی ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔

جنوبی کوریا کے نائب وزیر برائے قومی دفاعی پالیسی کم ہونگ چیول نے کہا کہ حالیہ برسوں میں شمالی کوریائی فوجی DMZ میں ملٹری ڈیمارکیشن لائن کے قریب تاکتیکی سڑکیں، باڑیں اور بارودی سرنگیں بچھانے کا کام کر رہے ہیں۔ سیئول کے مطابق ان سرگرمیوں کے دوران شمالی کوریا کے اہلکار متعدد مرتبہ سرحدی لکیر عبور کر چکے ہیں، جس سے غلط فہمی یا حادثاتی فائرنگ کا خطرہ بڑھتا ہے۔

جنوبی کوریا نے اس سے پہلے بھی گزشتہ نومبر میں فوجی مذاکرات کی تجویز دی تھی تاکہ سرحدی لکیر کے مقام پر اختلافات کو حل کیا جا سکے، لیکن پیانگ یانگ نے اس پیشکش کا جواب نہیں دیا۔ نئی تجویز میں بھی بنیادی مقصد دونوں افواج کے لیے زمینی حد بندی کو زیادہ واضح بنانا اور ایسے واقعات سے بچنا ہے جو کشیدگی میں اچانک اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

جنوبی کوریائی فوجی تحقیقات نے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ستمبر میں ہونے والا دھماکا ان بارودی سرنگوں سے ہوا جو شمالی کوریا نے ملٹری ڈیمارکیشن لائن کے جنوبی حصے میں بچھائی تھیں۔ شمالی کوریا نے اس نتیجے کو مسترد کیا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اس کی سرحدی تعمیراتی سرگرمیاں اس کی اپنی حدود میں ہو رہی ہیں۔

جزیرہ نما کوریا میں سرحدی کشیدگی حالیہ عرصے میں بڑھی ہے۔ شمالی کوریا نے سرحدی دفاعی تنصیبات مضبوط کی ہیں، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے فوجی اقدامات پر اعتراض کرتے رہے ہیں۔ جنوبی کوریا کی تازہ پیشکش کا فوری جواب سامنے نہیں آیا، اس لیے مذاکرات کے انعقاد یا کسی مشترکہ سرحدی طریقۂ کار پر اتفاق کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔