برلن: صدر آصف علی زرداری نے جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا ہے۔ ایوان صدر کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات برلن میں ہوئی، جہاں جرمن صدر نے علاقائی اور عالمی تنازعات کے حل میں پاکستان کے بڑھتے سفارتی کردار کو سراہا۔ صدر زرداری جرمنی کے تین روزہ دورے پر ہیں اور دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر اعلیٰ سطحی روابط بڑھا رہے ہیں۔
ملاقات میں افغانستان سے متعلق چیلنجز بھی زیر بحث آئے۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی تنازع نہیں، تاہم پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے خلاف حملوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو قبول نہیں کرے گا۔ جرمن صدر نے جرمنی منتقل کیے جانے والے 500 افغان شہریوں کی تصدیق کے عمل میں پاکستان کی سہولت کاری کو سراہا اور گزشتہ چار دہائیوں میں لاکھوں افغان شہریوں کے لیے پاکستان کی انسانی معاونت کا بھی ذکر کیا۔
ایوان صدر کے مطابق جرمن صدر نے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مکہ دفاعی معاہدے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔ صدر زرداری نے کہا کہ معاہدے کا مقصد علاقائی سلامتی کو تقویت دینا اور تنازعات کے تناظر میں ایک سکیورٹی متبادل فراہم کرنا ہے اور یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن کے لیے مسلسل مکالمے اور تعمیری مذاکرات کی اہمیت پر بھی بات کی۔
اقتصادی تعلقات کے حوالے سے صدر زرداری نے تجارت، سرمایہ کاری، ابھرتی ٹیکنالوجیز، موسمیاتی لچک، ہنرمندی، تعلیم، صحت، سائنسی ترقی، زراعت اور صنعت میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جرمنی کو ایک اہم یورپی شراکت دار سمجھتا ہے اور روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر حکومتوں، کاروباری اداروں اور ماہرین کے درمیان زیادہ روابط چاہتا ہے۔ جرمن صدر نے بھی دوطرفہ کاروبار، تعلیمی روابط اور تکنیکی تعاون بڑھانے کے لیے مسلسل رابطوں کی امید ظاہر کی۔
دونوں صدور نے پہلے ون آن ون اور بعد میں وفود کی سطح پر مذاکرات کیے۔ پاکستانی وفد میں سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، صوبائی وزرا، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور جرمنی میں پاکستانی سفیر سلمان شریف شامل تھے۔ صدر زرداری نے جرمن صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، جس پر شٹائن مائر نے مناسب وقت پر دورے پر غور کرنے کا عندیہ دیا۔ یہ دورہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کے ذریعے آگے بڑھانے کی کوشش کا حصہ ہے۔
