نیروبی: کینیا نے ایبولا سے دوسری ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق 65 سالہ خاتون قرنطینہ کے دوران علامات ظاہر ہونے کے بعد انتقال کر گئیں۔ وہ ملک کے پہلے تصدیق شدہ مریض کی قریبی رشتہ دار اور براہ راست رابطے میں تھیں۔ اس پیش رفت کے بعد کینیا میں تصدیق شدہ ایبولا کیسز کی تعداد نو اور اموات دو ہو گئی ہیں۔

کینیا کا پہلا مریض ایک شخص تھا جو جمہوریہ کانگو سے نیروبی پہنچا تھا اور 5 اکتوبر کو ایک ہسپتال میں انتقال کر گیا۔ اس کے بعد صحت حکام نے 135 افراد کو بطور رابطہ شناخت کیا اور انہیں نگرانی یا قرنطینہ میں رکھا۔ وزارت صحت کے مطابق باقی سات تصدیق شدہ مریض دو آئسولیشن مراکز میں زیر علاج ہیں اور اب تک ملک میں کمیونٹی سطح پر وائرس کے پھیلاؤ کے شواہد نہیں ملے۔

موجودہ وبا جمہوریہ کانگو سے شروع ہوئی اور اب مشرقی، وسطی اور مغربی افریقہ کے چار ممالک میں کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق جغرافیائی پھیلاؤ کے لحاظ سے یہ براعظم میں ایبولا کی سب سے وسیع وباؤں میں شمار ہو رہی ہے۔ نائجیریا نے بھی رواں ہفتے اپنا پہلا کیس رپورٹ کیا، جہاں حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ مریض کو وائرس کہاں سے منتقل ہوا کیونکہ اس کا کانگو کا معلوم سفری ریکارڈ نہیں تھا۔

جمہوریہ کانگو میں تقریباً 10 ہزار انفیکشن اور 4,600 سے زیادہ اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ موجودہ وبا کے ذمہ دار نایاب ایبولا وائرس کی قسم کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں بتایا گیا۔ بیماری میں بخار، قے، اسہال اور شدید صورتوں میں اندرونی یا بیرونی خون بہنے جیسی علامات ہو سکتی ہیں۔ وائرس عام طور پر علامات ظاہر ہونے کے بعد متاثرہ شخص کے جسمانی سیالوں سے منتقل ہوتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے صحت کے خطرات کے باعث امریکی شہریوں کو کینیا کے سفر پر دوبارہ غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ کینیا کے حکام رابطوں کی نگرانی، قرنطینہ اور آئسولیشن کے ذریعے وبا کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم دوسرے ملک میں پھیلاؤ اور نایاب وائرس قسم کے باعث علاقائی صحت اداروں کے لیے صورت حال مسلسل تشویش کا باعث ہے۔