کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام ف کے بلوچستان چیپٹر نے صوبے بھر میں اپنے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پارٹی قیادت کی جانب سے کسی ممکنہ سیاسی یا احتجاجی کال کے لیے تنظیمی تیاری مکمل رکھیں۔ ڈان کے مطابق یہ ہدایت جے یو آئی ف بلوچستان کی صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس میں دی گئی، جس میں صوبے کی سیاسی، امن و امان اور معاشی صورتحال پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمن کی ہدایات کے مطابق کارکنوں کو مقامی سطح پر رابطہ کاری مضبوط کرنے اور ممکنہ سیاسی سرگرمی کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا۔ تاہم رپورٹ میں کسی مخصوص احتجاج، تاریخ یا مقام کا حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے پارٹی کی ہدایت کو فوری احتجاج کے باضابطہ اعلان کے بجائے پیشگی تنظیمی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جے یو آئی ف کی صوبائی قیادت نے بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ امن و امان کے مسائل نے عام شہریوں اور کاروباری طبقے کو متاثر کیا ہے۔ اجلاس میں بے روزگاری، کاروباری مشکلات اور صوبے کے مختلف علاقوں میں بنیادی سہولتوں سے متعلق مسائل بھی زیر بحث آئے۔ پارٹی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے ان مسائل پر مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

بلوچستان میں جے یو آئی ف ایک نمایاں سیاسی قوت ہے اور صوبے کے متعدد اضلاع میں اس کا منظم جماعتی ڈھانچہ موجود ہے۔ پارٹی کی جانب سے کارکنوں کو تیار رہنے کی ہدایت اس لیے سیاسی اہمیت رکھتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن حالیہ عرصے میں قومی سیاسی معاملات پر حکومت اور دیگر جماعتوں کے ساتھ رابطوں اور اختلافات دونوں کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ تاہم صوبائی اجلاس کی ہدایت سے کسی مخصوص قومی سیاسی اتحاد یا تحریک کی تشکیل اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

اجلاس میں صوبے کے تنظیمی امور کا بھی جائزہ لیا گیا اور مقامی عہدیداروں کو کارکنوں سے رابطے بڑھانے کی ہدایت کی گئی۔ سیاسی جماعتیں عموماً بڑے جلسوں، احتجاجی تحریکوں یا انتخابی سرگرمیوں سے پہلے اسی نوعیت کی تنظیمی تیاری کرتی ہیں، مگر اس مرحلے پر جے یو آئی ف بلوچستان نے صرف ممکنہ قیادتی کال کے لیے تیار رہنے پر زور دیا ہے۔

پارٹی قیادت نے بلوچستان میں روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کی صورتحال کو بھی سیاسی ترجیحات میں شامل کیا۔ صوبے میں طویل عرصے سے سکیورٹی چیلنجز، محدود صنعتی سرگرمی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل سیاسی جماعتوں کے بیانیے کا اہم حصہ رہے ہیں۔ جے یو آئی ف نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔

آئندہ دنوں میں اگر پارٹی کی مرکزی قیادت کوئی باقاعدہ احتجاجی پروگرام، جلسہ یا سیاسی تحریک کا اعلان کرتی ہے تو صوبائی تنظیم کی موجودہ تیاری اس کے نفاذ کی بنیاد بن سکتی ہے۔ فی الحال دستیاب معلومات کے مطابق کارکنوں کو تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے، لیکن کسی احتجاجی مرحلے کے آغاز کی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔