لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور استعفیٰ صدر مملکت آصف علی زرداری کو بھجوا دیا گیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق جسٹس کیانی رواں سال مئی میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ منتقل کیے گئے تھے اور ان کی آئینی ریٹائرمنٹ 2032 میں متوقع تھی۔
جسٹس محسن اختر کیانی دسمبر 2015 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج مقرر ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے عدالتی دور میں انسانی حقوق اور جبری گمشدگیوں سمیت متعدد اہم مقدمات کی سماعت کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں وہ سینیارٹی فہرست میں دوسرے نمبر پر تھے، جبکہ لاہور ہائیکورٹ منتقلی کے بعد ان کی سینیارٹی مختلف ہو گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق نئے ججز روسٹر میں انہیں لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ میں تعینات کیا گیا تھا۔ ان کی منتقلی عدالتی نظام میں گزشتہ برس ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سامنے آنے والی اہم تبدیلیوں میں شامل تھی۔ اپریل میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے جسٹس کیانی کو لاہور ہائیکورٹ، جسٹس بابر ستار کو پشاور ہائیکورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو سندھ ہائیکورٹ منتقل کرنے کی منظوری دی تھی۔
ان آئینی تبدیلیوں کے بعد آرٹیکل 200 کے تحت ہائیکورٹ ججز کی بین الصوبائی منتقلی کے طریقہ کار میں تبدیلی آئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ ججز اس سے پہلے عدالتی امور میں مبینہ مداخلت کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھنے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز میں بھی شامل تھے۔ یہ پس منظر ان کی عدالتی سرگرمی سے متعلق ہے، تاہم استعفے کی وجہ کے بارے میں رپورٹ میں کوئی مفصل سرکاری وضاحت بیان نہیں کی گئی۔
استعفیٰ بھیجنا ایک اہم عدالتی پیش رفت ہے، لیکن اس کے آئینی اور انتظامی مراحل صدر مملکت کے دفتر اور متعلقہ قانونی طریقہ کار کے مطابق مکمل ہوں گے۔ دستیاب رپورٹ کی بنیاد پر استعفے کی وجوہات کے بارے میں قیاس آرائی مناسب نہیں۔ تصدیق شدہ بات یہ ہے کہ جسٹس کیانی نے اپنی مقررہ ریٹائرمنٹ سے کئی سال پہلے استعفیٰ صدر کو ارسال کر دیا ہے۔
