اورماڑہ کے قریب جولائی میں سمندر میں گرنے والے کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارے کے بلیک باکس، ملبے اور کاک پٹ عملے کی تلاش ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے گہرے سمندر میں تلاش اور ممکنہ ریکوری کے لیے غیر ملکی ماہرین اور بین الاقوامی کمپنیوں سے رابطے تیز کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق طیارے کا ملبہ سمندر کی سطح سے تقریباً 3,000 میٹر نیچے ہونے کا امکان ہے۔ اتنی گہرائی میں روایتی سرچ طریقے محدود ہو جاتے ہیں، اس لیے جدید سونار، خودکار زیرآب گاڑیاں اور ریموٹ سے چلنے والے روبوٹ استعمال کرنے کے امکانات زیر غور ہیں۔ یہ آلات ہائی ڈیفینیشن کیمروں، سینسرز اور مخصوص ریکوری ٹولز کے ذریعے سمندری تہہ کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
نجی کارگو آپریٹر کا طیارہ 7 جولائی کو اورماڑہ کے قریب خراب موسمی حالات کا سامنا کرنے کے بعد سمندر میں گر گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق بلیک باکس کے ساتھ نصب ٹرانسمیٹر بیکن نے حادثے کے تقریباً ایک ماہ بعد سگنل دینا بند کر دیا، جس سے تلاش مزید مشکل ہو گئی۔ پاکستان نیوی پہلے سائیڈ اسکین سونار اور دیگر خصوصی آلات کے ذریعے ممکنہ مقام کی نشاندہی کی کوشش کر چکی ہے۔
اگلے مرحلے میں ملٹی بیم ایکو ساؤنڈر کے ذریعے سمندری تہہ کا سہ جہتی نقشہ بنانے، خودکار زیرآب گاڑیوں سے سروے کرنے اور ریموٹ آپریٹڈ وہیکلز کے ذریعے مشتبہ ملبے کا قریب سے معائنہ کرنے جیسے طریقے زیر غور ہیں۔ میگنیٹومیٹر بھی بڑے دھاتی اجسام کی موجودگی کا سراغ لگانے میں مدد دے سکتا ہے۔
بلیک باکس اور ملبے کی بازیابی حادثے کی وجوہات کے تعین کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ فلائٹ ڈیٹا اور کاک پٹ وائس ریکارڈنگ طیارے کے آخری لمحات کی تفصیل فراہم کر سکتی ہیں۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سرچ آپریشن کے اخراجات کا نصف حصہ طیارے کی مالک کمپنی برداشت کرے گی۔ تاہم بین الاقوامی ماہرین کے انتخاب، آپریشن کے حتمی آغاز اور ریکوری کی مدت سے متعلق سرکاری تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔
