کراچی: وفاقی وزارت داخلہ نے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع تاریخی کراچی کاٹن ایکسچینج عمارت میں ایک بڑے عوامی سہولت مرکز کے قیام کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے عمارت کے دورے کے دوران اعلان کیا کہ وزارت کے ماتحت مختلف اداروں کی خدمات ایک ہی جگہ فراہم کرنے کے لیے ’گرینڈ فسیلیٹیشن سینٹر‘ قائم کیا جائے گا۔

سرکاری بیان کے مطابق مجوزہ مرکز میں پاسپورٹ، کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ، اسلحہ لائسنس، مختلف این او سیز اور وزارت داخلہ کے ماتحت دیگر خدمات کے کاؤنٹر ایک چھت تلے دستیاب ہوں گے۔ وزیر داخلہ نے متعلقہ حکام کو مرکز کا ماسٹر پلان دس روز میں تیار کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایف آئی اے کراچی کے ڈائریکٹر منتظر مہدی نے تصدیق کی کہ مجوزہ مرکز کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت ہی میں قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔

تاہم اس عمارت کی ملکیت اور قبضے سے متعلق قانونی تنازع تاحال سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ دسمبر 2025 میں وفاقی تحقیقاتی ادارے اور متروکہ وقف املاک بورڈ نے عدالتی احکامات کے تناظر میں عمارت کو وفاقی ٹرسٹ پراپرٹی قرار دیتے ہوئے اسے خالی کرانے کی کارروائی کی تھی۔ اس کے بعد کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، کراچی کاٹن ایسوسی ایشن، اس کے ارکان اور عمارت کے بعض کرایہ داروں نے سیلنگ، بے دخلی کے نوٹس اور متعلقہ کارروائی کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔

قانونی تنازع کے دوران ایف آئی اے نے اپریل میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے ساتھ کرایے کے معاہدے کے تحت اپنے مختلف شعبے عمارت میں منتقل کیے تھے۔ سندھ ہائی کورٹ نے رواں ماہ کے آغاز میں تاریخی عمارت کو ڈی سیل کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔ اس لیے مجوزہ سہولت مرکز کا منصوبہ ایک ایسی عمارت سے متعلق ہے جس کے حقوق اور ملکیت کا حتمی عدالتی تعین ابھی باقی ہے۔

وزیر داخلہ نے کراچی پورٹ پر اسلام آباد ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کے لیے چین سے آنے والی 21 نئی گاڑیوں کا بھی معائنہ کیا۔ سرکاری بیان کے مطابق نئی گاڑیوں میں ایریل فائر ٹرکس، فائر ٹاورز اور فائر ٹینڈرز شامل ہیں اور انہیں اسلام آباد کے چھ اسٹیشنوں پر تعینات کرنے کا منصوبہ ہے۔

گرینڈ فسیلیٹیشن سینٹر کے قیام کا اعلان انتظامی منصوبہ ہے؛ اس کی حتمی تعمیر، استعمال اور قانونی حیثیت متعلقہ منظوریوں، ماسٹر پلان اور عمارت کے زیر سماعت ملکیتی تنازع کے نتائج سے متاثر ہو سکتی ہے۔