سندھ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے کراچی میں کارروائی کے دوران دو مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جنہیں حکام نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک قرار دیا ہے۔ سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق دونوں افراد مبینہ طور پر افغانستان سے کراچی آئے تھے اور شہر میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

حکام نے گرفتار افراد سے تفتیش شروع کردی ہے اور ان کے ممکنہ رابطوں، رہائش، مالی معاونت اور مبینہ اہداف سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ اس مرحلے پر یہ تمام تفصیلات سی ٹی ڈی کے دعووں پر مبنی ہیں اور ملزمان کے خلاف جرم کا حتمی تعین عدالت کرے گی۔

کراچی ماضی میں مختلف مسلح تنظیموں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی سرگرمیوں سے متاثر رہا ہے، اگرچہ بڑے پیمانے کی قانون نافذ کرنے والی کارروائیوں کے بعد شہر میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی تھی۔ سکیورٹی ادارے اب بھی خفیہ اطلاعات پر مبنی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

افغانستان سے مبینہ آمد کا دعویٰ پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان جاری سکیورٹی اختلافات کے وسیع پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ پاکستان کابل سے ٹی ٹی پی کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے، جبکہ افغان حکام پاکستان کے بعض الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

گرفتاری کسی عدالتی سزا کے برابر نہیں ہوتی۔ سی ٹی ڈی کو ملزمان کے خلاف قابل قبول شواہد متعلقہ عدالت میں پیش کرنا ہوں گے اور انہیں قانونی دفاع کا حق حاصل ہوگا۔ مزید تفتیش سے یہ واضح ہوگا کہ حکام کے مطابق مبینہ منصوبہ کس مرحلے میں تھا اور آیا کسی دوسرے شخص یا نیٹ ورک سے بھی رابطہ سامنے آتا ہے۔