کراچی: ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے فیز چھ میں رہائشی عمارت کے اندر ہونے والے جھگڑے کی پولیس انکوائری نے متاثرہ بہن بھائی کے خلاف درج ایف آئی آر کے الزامات کو دستیاب شواہد سے غیر ثابت قرار دے دیا ہے۔ رپورٹ میں واقعے کے دوران موجود پولیس اہلکاروں کے کردار، گرفتاریوں اور تفتیش پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے محکمانہ اور قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جنوری کی نگرانی اور ماتحت اہلکاروں پر کنٹرول میں کمی کی بھی نشاندہی کی گئی۔
یہ واقعہ اگست کے تیسرے ہفتے میں ڈی ایچ اے کی ایک اپارٹمنٹ عمارت میں پارکنگ کے تنازع سے شروع ہوا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک خاتون کو ڈمبل کے ساتھ دوسری خاتون پر حملہ کرتے، وردی میں موجود اہلکاروں کو مبینہ متاثرہ خاتون کو پکڑے ہوئے اور ایک سادہ لباس شخص کو سرکاری اسلحہ لے کر کیمرہ توڑتے دیکھا گیا۔ اس کے باوجود ابتدائی ایف آئی آر حملے کا نشانہ بننے والی خاتون، ان کے بھائی اور والدہ کے خلاف درج کی گئی اور بہن بھائی کو حراست میں لیا گیا۔
ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا کی سربراہی میں تیار کردہ رپورٹ اضافی آئی جی کراچی کو بھیجی گئی۔ انکوائری ٹیم نے سی سی ٹی وی اور موبائل فوٹیج، سرکاری ریکارڈ اور دیگر دستاویزات کا جائزہ لیا اور 13 افراد کے بیانات قلم بند کیے۔ رپورٹ کے مطابق تنازع ایس ایس پی کورنگی کی ساس اور عمارت کی ایک دوسری رہائشی کے درمیان پارکنگ کے مسئلے سے پیدا ہوا۔ اس نے نتیجہ اخذ کیا کہ ایف آئی آر میں درج الزامات انکوائری کے حقائق سے ثابت نہیں ہوئے اور مقدمہ قانون کے مطابق نمٹایا جانا چاہیے۔
رپورٹ میں ایس ایس پی کی ساس، ان کی بیٹی اور بیٹے سمیت موقع پر موجود متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف متاثرہ خاندان کی شکایت پر مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی۔ اس میں کانسٹیبل تیمور احمد کو سی سی ٹی وی کیمرہ توڑنے اور کانسٹیبل امیر سہیل کو اس مقصد کے لیے ہتھیار فراہم کرنے سے منسوب کیا گیا، جبکہ کانسٹیبل ساقب اور حیدر سلطان پر اپنے بنیادی فرائض پورے نہ کرنے اور جھگڑا بڑھنے سے نہ روکنے کی ذمہ داری عائد کی گئی۔ یہ انکوائری رپورٹ کے نتائج ہیں؛ کسی عدالت نے ابھی ان افراد کو جرم کا مرتکب قرار نہیں دیا۔
رپورٹ نے درخشاں تھانے کے ایس ایچ او راشد علی اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر آفتاب منگی کی جانب سے موقع پر گرفتاریوں کو مناسب ثبوت کے بغیر اور ایک فریق کی طرف جھکاؤ کا مظہر قرار دیا۔ تفتیشی افسر عمران کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے آزادانہ انداز میں شہادت جمع کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ ان تینوں کے خلاف انصاف کے عمل کو متاثر کرنے کے الزام پر سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
ایس ایس پی کورنگی کے بارے میں رپورٹ نے ماتحت اہلکاروں کی نگرانی اور کنٹرول میں کمی کو واضح قرار دیتے ہوئے ان کے مجموعی کردار کا سول سرونٹس ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 2020 کے تحت جائزہ لینے کی سفارش کی۔ پولیس اہلکار مبینہ طور پر ایس ایس پی کے نجی بنگلے پر ڈیوٹی کے لیے تعینات تھے، مگر واقعے کے وقت اپارٹمنٹ عمارت میں موجود پائے گئے۔
انکوائری مکمل ہونا حتمی سزا یا مقدمے کے اختتام کے مترادف نہیں۔ اگلا مرحلہ اضافی آئی جی اور متعلقہ حکام کی جانب سے سفارشات پر فیصلہ، ممکنہ ایف آئی آرز کا اندراج، محکمانہ کارروائی اور متاثرہ خاندان کے خلاف مقدمے کو قانونی طریقے سے نمٹانا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ اس واقعے کے متاثرین کو تحفظ دینے کی ہدایت بھی کر چکی ہے۔




