کراچی پولیس نے ایک مبینہ بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی میں آٹھ افراد کو گرفتار کرنے اور تقریباً 90 کروڑ روپے مالیت کی میتھ ایمفیٹامین، جسے عام طور پر آئس کہا جاتا ہے، برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ گرفتار افراد میں ایک افغان نژاد ڈاکٹر اور پولیس اہلکار بھی شامل بتایا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق مشتبہ نیٹ ورک پاکستان سے بڑی مقدار میں منشیات تھائی لینڈ اور ملائیشیا منتقل کرنے میں ملوث تھا۔ کارروائی کے دوران مختلف مقامات سے ملزمان کو حراست میں لیا گیا اور ان کے قبضے سے منشیات برآمد کی گئیں۔ پولیس نے برآمد شدہ مواد کی مالیت تقریباً 900 ملین روپے بتائی ہے، تاہم منشیات کی بازار قیمت مقام اور غیر قانونی مارکیٹ کے حساب سے مختلف ہو سکتی ہے۔
حکام نے الزام عائد کیا کہ گرفتار افراد ایک منظم نیٹ ورک کے تحت کام کرتے تھے اور بیرون ملک منشیات پہنچانے کے لیے مختلف رابطوں اور راستوں کا استعمال کرتے تھے۔ ایک حاضر سروس یا سرکاری پولیس اہلکار کی مبینہ شمولیت کے باعث محکمانہ پہلو بھی زیر تفتیش آنے کا امکان ہے۔ تمام الزامات اس مرحلے پر پولیس کی تفتیش کا حصہ ہیں اور ملزمان کے خلاف جرم کا حتمی تعین عدالت کرے گی۔
میتھ ایمفیٹامین ایک طاقتور مصنوعی محرک منشیات ہے اور اس کی تیاری، قبضہ، فروخت اور اسمگلنگ پاکستان کے انسداد منشیات قوانین کے تحت سنگین جرائم میں شامل ہیں۔ پاکستان جغرافیائی طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے علاقائی منشیات اسمگلنگ کے راستوں سے متاثر رہا ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں مصنوعی منشیات کی تجارت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نئے چیلنج پیدا کیے ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد سے مزید تفتیش کے ذریعے نیٹ ورک کے مالی ذرائع، بیرون ملک رابطوں، ممکنہ سہولت کاروں اور منشیات کی فراہمی کے مقام کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ حکام نے فوری طور پر یہ نہیں بتایا کہ تمام ملزمان کو کس عدالت میں پیش کیا گیا یا ان کے خلاف کن مخصوص دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تفتیش مکمل ہونے اور عدالتی کارروائی آگے بڑھنے پر الزامات اور مبینہ نیٹ ورک کی اصل وسعت زیادہ واضح ہوگی۔




