اسلام آباد: وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ کراچی اور یورپ کی بڑی بندرگاہوں کے درمیان مخصوص بحری کارگو رابطہ بحال ہو گیا ہے۔ ڈان کی 9 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق وزیر نے جمعرات کو بتایا کہ میڈیٹرینین شپنگ کمپنی، جسے ایم ایس سی کہا جاتا ہے، نے برآمدکنندگان کی درخواستوں کے بعد اپنی پریمیئم آئی پاک سروس دوبارہ شروع کی ہے۔ عالمی سمندری راستوں میں تعطل کے باعث پاکستانی برآمدکنندگان کو پہلے زیادہ طویل سفری مدت اور بڑھتے ہوئے نقل و حمل کے اخراجات کا سامنا تھا۔

بحال ہونے والی سروس کے تحت ایم ایس سی کے جہاز کراچی گیٹ وے ٹرمینل انٹرنیشنل پر ہفتہ وار آئیں گے۔ اعلان کے مطابق اس رابطے کے ذریعے کراچی سے یورپ کی اہم بندرگاہوں، جن میں فیلکس اسٹو، روٹرڈیم، ہیمبرگ، بریمرہیون، اینٹورپ، لی آوَر اور لندن گیٹ وے شامل ہیں، تک کولمبو کے راستے رسائی فراہم کی جائے گی۔ اسے تمام جہازوں کے ہر مقام تک بغیر کسی درمیانی پڑاؤ کے جانے کے دعوے کے طور پر نہیں پڑھنا چاہیے؛ سرکاری بیان میں مخصوص سروس کی بحالی اور بندرگاہی رابطوں کی تفصیل دی گئی ہے۔

وزیر بحری امور کے مطابق خاص طور پر ٹیکسٹائل جیسے برآمدی شعبے کو اس تبدیلی سے فائدہ پہنچ سکتا ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی راستوں کی تبدیلی سے سامان پہنچانے میں وقت اور لاگت بڑھ گئی تھی۔ وزیر نے بتایا کہ برآمدکنندگان کے ساتھ بات چیت میں بحیرۂ احمر سے متعلق رکاوٹوں اور طویل بحری سفر کے اثرات سامنے آئے تھے۔ ان کے بقول بحال شدہ سروس برآمدی سامان کے لیے متبادل منصوبہ بندی اور یورپی منڈیوں تک رابطے کی بہتر سہولت دے گی۔

تاہم وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ سروس کی واپسی کو بین الاقوامی بحری تجارت کے تمام مسائل کا حل نہیں سمجھا جا سکتا۔ عالمی راستوں میں رکاوٹیں اب بھی تجارت، نقل و حمل کی مدت اور لاجسٹکس کی لاگت پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔ حکومت نے بحری شعبے اور برآمدکنندگان کے ساتھ مل کر ان مسائل سے نمٹنے کے لیے کام جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس بیان میں ممکنہ فوائد بیان کیے گئے ہیں؛ مخصوص مالی بچت یا مال برداری کی نئی متعین شرحیں رپورٹ نہیں کی گئیں۔

اسی سلسلے میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین نے کارگو کلیئرنس بہتر بنانے کے لیے چوبیس گھنٹے الیکٹرانک ڈیلیوری آرڈرز، رسک کی بنیاد پر معائنوں، غیر مداخلتی اسکیننگ اور مشترکہ جانچ کی تجاویز بھی پیش کیں۔ شپنگ کنیکٹیویٹی اینڈ آپٹیمائزیشن ورکنگ گروپ کے اجلاس کا مقصد بندرگاہ پر جسمانی اور ضابطہ جاتی رکاوٹیں کم کرنا بتایا گیا۔ ٹرمینل آپریٹرز نے رات کے وقت معائنوں پر آمادگی ظاہر کی جبکہ کسٹمز سے چوبیس گھنٹے کام میں سہولت دینے کی درخواست کی گئی۔ یہ تجاویز انتظامی بہتری سے متعلق ہیں، جبکہ ہفتہ وار ایم ایس سی سروس کی بحالی ایک الگ عملی پیش رفت ہے۔