اسلام آباد: وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ کراچی اور یورپ کی اہم بندرگاہوں کے درمیان مخصوص کنٹینر شپنگ سروس بحال کر دی گئی ہے۔ وزیر کے مطابق بین الاقوامی شپنگ کمپنی میڈیٹیرینین شپنگ کمپنی، یعنی ایم ایس سی، نے برآمدکنندگان کی درخواست پر اپنی پریمیم آئی پاک سروس دوبارہ شروع کی ہے۔ یہ اعلان جمعرات آٹھ اکتوبر کو سامنے آیا اور نو اکتوبر کو ڈان نے اس کی تفصیلات شائع کیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ بحال شدہ سروس کے تحت ایم ایس سی کے جہاز کراچی گیٹ وے ٹرمینل انٹرنیشنل پر ہفتہ وار آئیں گے۔ اس رابطے سے برطانیہ کے فیلکس اسٹو اور لندن گیٹ وے، نیدرلینڈز کے روٹرڈیم، جرمنی کے ہیمبرگ اور بریمرہیون، بیلجیم کے اینٹورپ اور فرانس کے لی ہاور جیسی بندرگاہوں کے ساتھ سامان کی ترسیل کی سہولت میسر آئے گی۔ کمپنی کے اعلان کردہ راستے میں کولمبو کا بھی ذکر ہے؛ اس لیے اس سروس کو ہر منزل تک بغیر کسی درمیانی بندرگاہ کے سفر کے معنی میں نہیں لینا چاہیے۔

جنید انور چوہدری نے کہا کہ عالمی بحری راستوں، خصوصاً بحیرۂ احمر سے متعلق رکاوٹوں کے باعث پاکستانی برآمدکنندگان کو طویل سفر، زیادہ کرایوں اور مال کی فراہمی میں تاخیر کا سامنا رہا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکسٹائل سمیت برآمدی صنعتوں نے ان مسائل کے بارے میں وزارت کو آگاہ کیا تھا۔ نئی یا بحال شدہ سروس کا مقصد شپنگ کے مزید انتخاب فراہم کرنا اور برآمدی مال کی ترسیل کی منصوبہ بندی بہتر بنانا ہے۔

وزیر بحری امور نے اپنے بیان میں کراچی کی ٹرانس شپمنٹ صلاحیت بڑھنے کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں اپنا کردار بڑھا رہا ہے۔ تاہم بندرگاہ کی مسابقت، کسی خاص راستے کی اوسط لاگت، وقت کی حقیقی بچت اور برآمدی حجم پر مستقبل کے اثرات جانچنے کے لیے متعلقہ شپنگ کمپنیوں اور تجارتی اعدادوشمار درکار ہوں گے۔ صرف اعلان کی بنیاد پر کرایوں میں کسی مخصوص فیصد کمی یا ترسیل کے یقینی دورانیے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان کے لیے یورپی منڈیاں بالخصوص ملبوسات اور ٹیکسٹائل کی برآمدات کے اعتبار سے اہم ہیں۔ برآمد کنندگان طے شدہ وقت پر آرڈر پہنچانے، جہازوں کی دستیابی اور غیر متوقع اخراجات میں کمی کو مسابقت کے بنیادی عوامل قرار دیتے ہیں۔ بین الاقوامی شپنگ راستے تبدیل ہونے پر ان میں سے ہر عنصر متاثر ہو سکتا ہے۔

اس پیش رفت کے عملی نتائج اس بات سے واضح ہوں گے کہ ہفتہ وار سروس کس تسلسل سے چلتی ہے، برآمد کنندگان اسے کس حد تک استعمال کرتے ہیں اور عالمی بحری سلامتی کی صورتحال میں کیا تبدیلی آتی ہے۔ موجودہ خبر کی بنیادی تصدیق وفاقی وزیر کے بیان اور ڈان کی نو اکتوبر کی رپورٹ سے ہوتی ہے؛ اسے کسی وسیع تجارتی بحالی کے حتمی اعداد و شمار کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔