اسلام آباد: پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جمعہ 9 اکتوبر کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 8 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران قلیل مدتی مہنگائی کی سالانہ شرح 11.97 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ حساس قیمت اشاریے، جسے ایس پی آئی کہا جاتا ہے، میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.57 فیصد اضافہ ہوا۔ اس اشاریے میں روزمرہ استعمال کی 51 ضروری اشیا کی قیمتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ گھریلو اخراجات میں فوری تبدیلیوں کی نشاندہی ہو سکے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق زیر جائزہ ہفتے میں 20 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، چھ میں کمی اور 25 کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ ہفتہ وار بنیاد پر گندم کے آٹے کی قیمت 5.69 فیصد، مرغی کی 4.93 فیصد اور چنے کی دال کی 3.99 فیصد بڑھی۔ پیٹرول اور ٹماٹر کی قیمتوں میں 2.40 فیصد اضافہ درج ہوا جبکہ مسور کی دال، تیار چائے، پکی دال، ماش کی دال اور ایل پی جی بھی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل تھیں۔ دوسری طرف کیلے، ڈیزل، آلو، چینی، گڑ اور مونگ کی دال کی قیمتوں میں ہفتہ وار کمی ریکارڈ کی گئی۔
سالانہ موازنے میں بعض اشیا کی قیمتوں میں تبدیلی نمایاں رہی۔ پی بی ایس کے مطابق پیاز کی قیمت ایک سال پہلے کے مقابلے میں 100.24 فیصد، ایل پی جی کی 68.55 فیصد، پہلی سہ ماہی کے بجلی نرخوں کی 58.59 فیصد اور پیٹرول کی 47.52 فیصد زیادہ تھی۔ اسی مدت میں ڈیزل کی قیمت 42.52 فیصد اور گندم کے آٹے کی قیمت 32.60 فیصد بڑھی۔ تاہم آلو، ٹماٹر، چینی اور انڈوں سمیت کچھ اشیا کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر کم بھی ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق حساس قیمت اشاریے کی تیاری کے لیے 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے قیمتوں کا ڈیٹا جمع کیا جاتا ہے۔ یہ ہفتہ وار پیمانہ عمومی افراط زر کے دوسرے اشاریوں سے الگ ہے اور اسے تمام صارفین کی مجموعی مہنگائی کی شرح سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اس سے بالخصوص بنیادی ضرورت کی اشیا کی تازہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اندازہ ہوتا ہے۔
ڈان کے مطابق توانائی اور نقل و حمل کی لاگت میں اضافے سے غذائی اشیا پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ایک روز پہلے قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں خصوصاً آٹے کی بڑھتی قیمت پر تشویش ظاہر کی اور صوبائی و ضلعی انتظامیہ کو رسد، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی نگرانی مضبوط کرنے کی ہدایت کی۔ اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ قیمتوں کے دباؤ کی نوعیت مختلف اشیا میں مختلف ہے؛ اس لیے کسی ایک جنس کی کمی یا اضافے کو پوری مارکیٹ کا رجحان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
