پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے لیے طیاروں کی دستیابی سے متعلق ایک نئے انتظام میں ناروے کی فضائی کمپنی نورس اٹلانٹک ایئرویز نے دو بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیارے لیز پر فراہم کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ روئٹرز نے 9 اکتوبر 2026 کو کمپنی کے اعلان کی بنیاد پر بتایا کہ پی آئی اے کے لیے اس انتظام کے تحت فضائی آپریشن نومبر 2026 میں شروع کرنے کا پروگرام ہے۔ یہ اعلان معاہدے اور متوقع آغاز سے متعلق ہے؛ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ طیارے پہلے ہی پی آئی اے کے بیڑے میں شامل ہوچکے ہیں یا متعلقہ پروازیں شروع ہوگئی ہیں۔

نورس اٹلانٹک کے مطابق یہ انتظام اے سی ایم آئی نوعیت کے کاروبار کا حصہ ہے۔ اس ماڈل میں طیارے کے ساتھ عملہ، دیکھ بھال اور انشورنس کی سہولت بھی معاہدے میں شامل ہوتی ہے۔ اس لیے اسے صرف طیارے کی عام لیز کے طور پر دیکھنے کے بجائے فضائی آپریشن کی ایک وسیع تجارتی ترتیب سمجھنا ضروری ہے۔ تاہم پی آئی اے کے لیے مخصوص روٹس، پروازوں کی تعداد اور معاہدے کی مالی شرائط کی تفصیلات روئٹرز کی رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئیں۔

ناروے کی کمپنی نے حالیہ عرصے میں اپنے کاروباری ماڈل میں تبدیلی کی ہے۔ بڑھتی ہوئی فضائی ایندھن کی قیمتوں اور مسافروں کی طلب میں اتار چڑھاؤ کے باعث وہ کم لاگت بین البراعظمی مسافر پروازوں پر انحصار گھٹا کر دیگر ایئرلائنز کو طیارے اور عملہ فراہم کرنے کے معاہدوں پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ طویل مدت کے ایسے معاہدے آمدنی کو نسبتاً مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق بھارتی فضائی کمپنی انڈیگو نے جولائی میں نورس اٹلانٹک کے ساتھ اپنا ویٹ لیز انتظام ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پی آئی اے سے نیا معاہدہ ناروے کی کمپنی کے لیے اس کاروباری شعبے میں اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نورس اٹلانٹک کے پاس بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیاروں پر مشتمل 12 جہازوں کا بیڑا ہے اور وہ دیگر فضائی کمپنیوں کے ساتھ بھی ممکنہ معاہدوں پر بات چیت کر رہی ہے۔

پی آئی اے کے لیے اس پیش رفت کی عملی اہمیت کا اندازہ طیاروں کی آمد، ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل، روٹس کے اعلان اور نومبر میں مجوزہ آپریشن شروع ہونے کے بعد زیادہ واضح ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ خبر دونوں کمپنیوں کے درمیان دو طیاروں کی فراہمی کے معاہدے اور متوقع آغاز کی تاریخ تک محدود ہے۔